ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 201

جو کچھ دکھاتا ہے انسان اس کی مثل نہیں لا سکتا میری تائید میں ایک نوع سے ڈیڑھ سو اور ایک نوع سے ایک لاکھ نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔۱ حضرت اقدس۔اچھا کیا آپ نے دو تین روز کا مصمم ارادہ کر لیا ہے؟ نو وارد۔کل کچھ عرض کروں گا۔حضرتؑ۔میں چاہتا ہوں کہ آپ جودور دراز سے آئے ہیں کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہیے۔کم از کم تین دن آپ رہ جائیں۔میں یہی نصیحت کرتا ہوں اور اگر اور نہیں تو آمدن بارادت ورفتن باجازت ہی پر عمل کریں۔نو وارد۔میں نے یہاں آکر اوّل دریافت کر لیا تھا کہ کوئی اَمر شرک کا نہیں۔اس لیے میں ٹھہر گیا کیونکہ شرک سے مجھے سخت نفرت ہے۔حضرت اقدس نے پھر جماعت کو خطاب کرکے فرمایا کہ میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سبّ وشتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہیے کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مرید وں سے چاہتے البدر میں ہے۔’’سو ایسے نشان ہم نے نزول المسیح میں لکھے ہیں اور ایک طریق سے دیکھا جاوے تو یہ نشان کئی لاکھ موجود ہیں۔آپ ایک دو دن ٹھہریں اور دیکھ لیویں۔‘‘ محمد یو سف صاحب۔اجی جناب میں ٹھیر کر کیا کروں گا۔اکیلا آدمی ہوں اور یہاں یہ جوش و خروش۔میں ڈرتا تو کسی سے نہیں مگر ایسا ہی لگتا ہے تو میں ابھی تار دے کر اپنے دوستوں کو بُلالیتا ہوں۔نا ظرین پر واضح ہو کہ اس اثناء میں جب کہ ہمارے جو شیلے احمدی بھائی نے ان نئے سائل کو غیرت مندانہ جواب دیا تھا تو حضرت اقدس نے ان کو چُپ کروادیا تھا۔پھر محمد یوسف صاحب کے اس اعتراض پر فر مایا۔حضرت اقدس۔یہ تقاضائے محبت ہے کچھ اور نہیں۔محبت میں ایسا ہوا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی اس کی نظیر دیکھی جاتی ہے کہ ابو بکر ؓجیسا شخص جو کہ غایت درجہ کا مؤدب تھا جب اس کے سامنے ایک عرب کے سر بر آوردہ شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگا کر کہا کہ تو نے ان مختلف لوگوں کا جتھا بناکر جو عرب کی قوم کا مقابلہ کرنا چاہا یہ غلطی ہے تو حضرت ابو بکر ؓنے اس وقت بڑے غصّہ میں آکر اُسے کہا اُمْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ (یہ عرب میں ایک گالی ہوتی ہے )آپ کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ کس قدر نقصان برداشت کرکے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔محبت ہے جس نے بٹھایا ہوا ہے۔آپ نو وارد اور یہ قابلِ احترام۔(البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۱ )