ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 11

یہاں جبریل نہیں کہا آئل کہا۔اس لفظ کی حکمت یہی ہے کہ وہ دلالت کرے کہ مظلوم کو ظالموں سے بچاوے اس لئے فرشتہ کا نام ہی آئل رکھ دیا پھر اس نے انگلی ہلائی کہ چاروں طرف کے دشمن اور اشارہ کیا کہ یَعْصِمُکَ اللہُ مِنَ الْعِدَا وغیرہ۔یہ بھی اس پہلے الہام سے ملتا ہے اِنَّہٗ کَرِیْمٌ تَـمَشّٰی اَمَامَکَ وَعَادٰی مَنْ عَادٰی۔وہ کریم ہے تیرے آگے آگے چلتا ہے جس نے تیری عداوت کی اس کی عداوت کی۔چونکہ آئل کا لفظ لُغت میں مل نہ سکتا ہوگا یا زبان میں کم مستعمل ہوتا ہوگا اس لئے الہام نے خود اس کی تفصیل کر دی ہے۔(یہ گذشتہ چند روز کا الہام ہے) جس طرح انبیاء کے صفات ہوتے ہیں اسی طرح ملائکہ کے بھی صفات ہوتے ہیں اور اِصْبَعُہٗ کے اجتہادی معنے جو کچھ ہم کریں اصل واقعہ تو اس وقت معلوم ہوگا جب وہ ظہور پذیر ہوگا۔ایک نووارد صاحب۱نے عرض کی کہ کاش مجھے بھی جبرائیل دکھلایا جاتا۔فرمایا۔جب خدا آپ کو وہ آنکھیں عنایت کرے گا تو آپ بھی دیکھ لیں گے وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ(مریم: ۶۵) وہ تو خدا کے حکم سے نازل ہوتا ہے جب محمد حسین بٹالوی نے رسالہ کفر کا لکھا تھا اور لوگوں کو بھڑکایا تھا کہ یہ مسلمان نہیں۔ان کے جنازہ نہ پڑھو مسلمانوں کے قبرستان میں ان کو دفن نہ کرو اس وقت لوگ بھڑکے اور ہماری مخالفت عام ہو گئی اور بغض و عداوت حد سے بڑھ گیا اس وقت میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ بھائی غلام قادر کی شکل پر ایک شخص آیا مگر فوراً مجھے معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے میں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ کہا جِئْتُ مِنَ الْـحَضْـرَۃِ۲ مَیں جناب باری سے آیا ہوں چونکہ وہاں بہت لوگ معلوم ہوتے تھے میں نے اس سے الگ ہو کر ایک بات کرنے ۱ الحکم میں نَو وارد کا لفظ نہیں بلکہ ابو سعید عرب صاحب کا نام لکھا ہے۔البدر میں بھی صرف اسی مقام پر ’’نو وارد‘‘ لکھا ہے۔آگے اس ڈائری میں عرب صاحب ہی لکھا ہے جس سے وضاحت ہوجاتی ہے کہ یہ نو وارد عرب صاحب ہی ہیں۔(مرتّب) ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ ) ۲ الحکم میں جِئْتُ مِنْ حَضْـرَۃِ الْوِتْرِ لکھا ہے۔( الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ )