ملفوظات (جلد 4) — Page 12
کی درخواست کی تو وہ علیحدہ ہو کر مجھے پوچھنے لگامیں نے کہا لوگ تو مجھ سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔کہا نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں معاً میری حالتِ کشف جاتی رہی۔حدیث کا مرتبہ فرمایا۔سچی بات تو یہ ہے کہ اگر صرف حدیث کو مدار شریعت رکھا جاوے اور قرآن کو ترک کر دیا جاوے تو یہ ایک تباہی کا نشان ہے جو حدیثیں قرآن کے موافق ہیں ان کی تو عزّت کرو اور تعظیم کرو اور دوسری کو ترک کرو۔قیامت کے روز حشرکیسے ہوگا عرب صاحب نے سوال کیا کہ قیامت کے دن لوگ جس طرح مَرتے ہیں اسی طرح اوّل و آخر نمبروار حاضر ہوں گے یا ایک دم تمام متقدمین و متأخرین اکٹھے اٹھیں گے۔فرمایا۔الگ الگ ثابت نہیں سب اکٹھے اٹھیں گے ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا خدا بڑا قادر خدا ہے۔دیکھو نطفہ کیا چیز ہے اور پھر اس سے کس طرح انسان کامل بن جاتا ہے ہر شخص جو خدا کو ماننے والا ہے سورج چاند وغیرہ اجسام کو دیکھ کر کیا وہ یہ بتلا سکتا ہے کہ کن چھکڑوں پر یہ اسباب آیا تھا اور ان کا مصالح کہاں سے آیا تھا یہی ماننا پڑے گا اور پڑتا ہے کہ اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یٰسٓ: ۸۳) پھر ہم کو ایسا ہی ماننا چاہیے کہ قیامت کے روز سب کو یک دم مقابلہ کرا دے گا اور جن حسرتوں میں مومن مَر گئے تھے اور ان کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے مخالفوںکا کیا حال ہوا وہ ان کو دکھلا دیا جاوے گا کہ دیکھو اے راست باز بندو! یہ منکرین کا حال ہے تب ان راست بازوں کو لذّت آوے گی۔پس خدا کو ہم مان ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کو صاحبِ مقدرت کلّی نہ مان لیں۔پہلے اس کے کاموں کو دیکھو ہم سب کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا کوئی فاعل ہے پھر کیا وجہ کہ ایک حصہ میں اس کو مانتا اور ایک حصہ میں اس کا انکار کرتا اور شبہات میں پڑتا۔یا تو پہلی دفعہ سے ہی انکار کرنا چاہیے یا بکلّی ماننا۔خدا کی صفات اور کام غیر محدود ہیں کیا دنیا کی ہزار ہا مخلوق اس بات کی کافی دلیل نہیں کہ خدا بڑا قوی خدا ہے۔