ملفوظات (جلد 4) — Page 155
مصدّق کے پیچھے نماز عجب خان صاحب۱ تحصیلدار نے حضرت اقدس سے استفسار کیا کہ اگر کسی مقام کے لوگ اجنبی ہوں اور ہمیں علم نہ ہو کہ وہ احمدی جماعت میں ہیں یا نہ تو ان کے پیچھے نماز پڑھی جاوے یا کہ نہ؟ فرمایا۔ناواقف امام سے پوچھ لو ا گر وہ مصدّق ہو تو نماز اس کے پیچھے پڑھی جاوے ورنہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ایک جماعت الگ بنانا چاہتا ہے اس لیے اس کے منشا کی کیوں مخالفت کی جاوے جن لوگوں سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے باربار ان میں گھسنا یہی تو اس کی منشا کے مخالف ہے۔ایک احمدی کے فرائض پھر تحصیلدار صاحب نے پوچھا کہ اپنے مقام پر جاکر ہمارا بڑا کام کیا ہونا چاہیے؟ فرمایا کہ ہماری دعوت کو لوگوں کو سنایا جاوے۔ہماری تعلیم سے ان کو واقف کیا جاوے۔تقویٰ اور توحید اور سچا اسلام ان کو سکھایا جاوے۔رئویا کے ذریعہ ہدایت اس کے بعد تین احباب نے بیعت کی۔بیعت کے بعد ان میں سے ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں ایک شریر آدمی تھا اور مجھ کو جھوٹے دعوے کرنے اور لوگوں کے حقوق چھین لینے اور ضبط کرنے کی خوب مشق الحکم میں اس ڈائری پر ۲۰؍جنوری ۱۹۰۳ء کی تاریخ درج ہے جو سہو معلوم ہوتا ہے۔۲۰ کا ہندسہ بھی پورا روشن نہیں بلکہ مٹا مٹا سا ہے۔البدر میں ۲۰، ۲۱، ۲۲ سب تاریخوں کی مسلسل الگ الگ ڈائری موجود ہے۔الحکم میں اگر اس ڈائری کو ۲۰؍کی سمجھا جائے تو ۲۱ ؍کی کوئی ڈائری وہاں درج نہیں۔قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ ۲۱ ؍جنوری کی ہی ڈائری ہے جس پر الحکم میں سہو کتابت یا سہو طباعت سے ۲۰؍جنوری کی تاریخ لکھی گئی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔بہرحال الحکم کی اس ڈائری میں خان عجب خان صاحب کا استفسار اور حضرت اقدس ؑ کا جواب یُوں درج ہے ’’جناب خان عجب خان صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی اور ناواقف ہوتے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں؟ فرمایا۔’’اوّل تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں اور جہاں ایسی صورت ہوکہ لوگ ہم سے اجنبی اور ناواقف ہوں تو ان کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کرکے دیکھ لیا اگرتصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں اکیلے پڑھ لو۔خدا تعالیٰ اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت طیار کرے پھر جان بُوجھ کر ان لوگوں میں گُھسنا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاءِ الٰہی کی مخالفت ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷نمبر ۵ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳ )