ملفوظات (جلد 4) — Page 154
کا تھا وہ صرف میاں کرم دین کے لئے تھا۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ جب وہ جہلم میں نالش کرنے گیا تھا تو کس قدر گروہ تھا؟ پھر وہ چندہ وغیرہ جمع کرتا رہا تو کس قدر گروہ تھا اور جہلم میں جو کئی سو آدمیوں نے بیعت کی وہ کس کی کی؟ وغیرہ وغیرہ۔مسٹر پگٹ مفتی محمد صادق صاحب نے ایک انگریزی اخبار سنایا جس میں مسٹر پگٹ کا حال تھا۔فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ایسے کاذب مدعی پیداہوئے تھے جو کہ بہت جلد نابود ہوئے یہی حال اس کا ہوگا اس کے متعلق الہام ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔۱ ۲۱؍جنوری۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) حضرت اقدس نے حسب دستور نماز مغرب ادا فرما کر مجلس فرمائی ما سٹر عبدالرحمٰن صاحب نومسلم نے ایک مضمون ایک اشتہار کا حضرت اقدس کو پڑھ کر سنایا جو کہ ان تمام نو مسلموں کی طرف سے جو کہ حضرت اقدس کے دست مبارک پر مشر ف باسلام ہوئے ہندو اور آریہ کے سر بر آوردہ ممبروںکی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔اس میں انہوں نے استدعاکی ہے کہ اگر ان کے نزدیک یہ نو مسلم جماعت مذہب اسلام کے قبول کرنے میں غلطی پر ہے تو وہ ان کے پیش کردہ معیار صداقت (جو کہ حضرت اقدس کے مضامین مباہلہ و مقابلہ سے اخذ شدہ ہیں ) کے رو سے حضرت میرزا صاحب سے فیصلہ کرکے ان کا غلطی پر ہونا ثابت کردیویں۔حضرت اقدس نے اس تجویزکو پسند فرمایا اور کہا کہ مذہب کی غرض یہی نہیں ہے کہ صرف آئندہ جہان میں خدا سے فائدہ حاصل ہو بلکہ اس موجودہ جہان میں بھی خدا سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ان لوگوں کے صرف دعوے ہی دعوے ہیں کوئی کام توکّل اور تقویٰ کا ان سے ثابت نہیں ہوتا۔مصیبت پڑے تو ہر ایک ناجائز کام کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰ ؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴