ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 153

۲۰ ؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز سہ شنبہ(بوقتِ عصر) نشانات کی کثرت فرمایا کہ خدا تعالیٰ کیسے تاڑ تاڑ نشان دکھلارہا ہے۔ہم ابھی عدالت میں پیش بھی نہ ہوئے تھے اور نہ کسی کو معلوم تھا کہ انجام کیا ہوگا لیکن مواہب الر حمٰن میں لکھا ہواتھا کہ کرم دین کا مقدمہ خارج ہو جاوے گا اور وہ ۱۵ تاریخ سے ہی تقسیم ہو رہی تھی بلکہ بعض ہمارے دوستوں نے کرم دین کو دکھلابھی دیا کہ تمہارے مقدمہ کی نسبت یہ کچھ لکھا ہے۔(مجلس قبل از عشاء) فرمایا۔کھانسی کا زور ہو گیا ہے۔ایک رئویا اس کے بعد آپ نے ایک رئویا دریائے نیل والی سنائی جو کہ البدر جلد ۲ صفحہ۷ پر شائع ہو چکی ہے (وہاں غلطی سے ۱۹ تاریخ لکھی ہے اصلاح کر لی جاوے)۱ سراج الاخبار جہلم کی دروغ بیانی اس کے بعد سراج الاخبار کی دروغ بیانی کا ذکر ہوتا رہا کہ اس نے لکھا ہے کہ جہلم میں جس قدر ہجوم لوگوں کا البدر جلد۲ نمبر او۲ مورخہ ۲۳،۳۰؍جنوری۱۹۰۳ء صفحہ ۷ میں یہ رئویا یوں درج ہے کہ ’’میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔نظر اُٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے وگاڑیوں و رتھوں کے ہے وہ ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بےدل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلّاتے ہیں کہ اے موسیٰ! ہم پکڑے گئے تو میں نے بلند آواز سے کہا كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ اتنے میں میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے‘‘ نوٹ۔الحکم جلد ۷ نمبر ۴ صفحہ ۱۵ پر بھی یہ رئویا ۱۹ ؍جنوری کی ہی بیان شدہ لکھی ہے اور البدر جلد ۲ نمبر ۱،۲ صفحہ ۷ پر بھی ۱۹ ؍جنوری کی بیان کی گئی ہے لیکن البدر جلد ۲ نمبر ۵ صفحہ ۳۴ میں لکھا ہے کہ یہ رئویا حضور نے ۲۰؍جنوری کی شام کی مجلس میں بیان فرمائی تھی۔پہلے غلطی سے۱۹؍جنوری کی تاریخ لکھی گئی ہے واللہ اعلم بالصواب ( مرتّب)۔