ملفوظات (جلد 4) — Page 149
ہیں نہ چھوڑیں گے اور ان کو اس لذّت پر جو ایک مومن کو خدا میں ملتی ہے ترجیح دیں گے۔خدائے تعالیٰ کا پروانہ موجود ہے جس کانام قرآن شریف ہے جو جنّت اور ابدی آرام کا وعدہ دیتا ہے مگر اس کی نعمتوں کے وعدہ پر چنداں لحاظ نہیں کیا جاتا اور عارضی اور خیالی خوشیوں اور راحتوں کی جستجو میں کس قدر تکلیفیں غافل انسان اُٹھاتا اور سختیاں برداشت کرتا ہے مگر خدائے تعالیٰ کی راہ میں ذرا سی مشکل کو دیکھ کر بھی گھبرا اُٹھتا اور بد ظنی شروع کر دیتا ہے۔کاش وہ ان فانی لذتوں کے مقابلہ میں ان اَبدی اور مستقل خوشیوں کا اندازہ کرسکتا۔ان مشکلات اور تکا لیف پر فتح پانے کے لیے ایک کامل اور خطا نہ کرنے والا نسخہ موجود ہے جو کروڑ ہاراست بازوں کا تجربہ کردہ ہے۔وہ کیا؟ وہ وہی نسخہ ہے جس کو نماز کہتے ہیں۔نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الٰہیہ کا مورد بنا دیتی ہے۔کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے۔اب ذرا غور کرو۔نماز کی ابتدا اذان سے شروع ہوتی ہے۔اذان اَللّٰہُ اَکْبَرُ سے شروع ہوتی ہے۔یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔یہ فخر اسلامی عبادت کو ہی ہے کہ اس میں اوّل اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اَور۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملّت میں نہیں ہے۔پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسمِ اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا (حٰمٓ السجدۃ:۳۱ ) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسمِ اعظم استقامت کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا۔پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و حزن ان کو نہیں رہتا۔میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔استقامت سے