ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 150

کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے۔مثلًادور بین کے اجزا کو اگرجُدا جُدا کرکے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی۔غرض وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَـحَلِّہٖ کا نام استقامت ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے۔پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کرسکتی۔دعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسمِ اعظم جمع ہوں۔اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا وہوس ہی کا بُت کیوں نہ ہو جب یہ حالت ہوجائے تو اس وقت اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) کا مزا آجاتا ہے۔پس میں چاہتا ہوں کہ آپ استقامت کے حصول کے لیے مجاہدہ کریں اور ریاضت سے اسے پائیں کیونکہ وہ انسان کو ایسی حالت پر پہنچا دیتی ہے جہاں اُس کی دعا قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے۔اس وقت بہت سے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو عدم قبولیتِ دعا کے شاکی ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ افسوس تو یہ ہے کہ جب تک وہ استقامت پیدا نہ کریں دعا کی قبولیت کی لذّت کو کیوں کر پاسکیں گے۔قبولیتِ دعا کے نشان ہم اسی دنیا میں پاتے ہیں۔استقامت کے بعد انسانی دل پر ایک برودت اور سکینت کے آثار پائے جاتے ہیں۔کسی قسم کی بظاہر ناکامی اور نامُرادی پر بھی دل نہیں جلتا۔لیکن دعا کی حقیقت سے ناواقف رہنے کی صورت میں ذراذرا سی نامرادی بھی آتشِ جہنّم کی ایک لپٹ ہوکر دل پر مستولی ہوجاتی ہے اور گھبرا گھبرا کر بے قرار کئے دیتی ہے۔اسی کی طرف ہی اشارہ ہے نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ(الھمزۃ ـ:۷،۸) بلکہ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ تپ بھی نارِ جہنّم ہی کا ایک نمونہ ہے۔اُمّت میں سلسلہ مجدّدین اب یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پاجانا تھا اس لیے ظاہری طور پر ایک نمونہ اور خدا نمائی کا آلہ دنیا سے اُٹھنا تھا۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک آسان راہ رکھ دی کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ (اٰل عـمران:۳۲) کیونکہ محبوب اللہ مستقیم ہی ہوتا