ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 148

صحت پر اثر ڈالا اور وہ انتقال کر گئے اور بھی بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے ارادوںکو خدا پر مقدم کرتے ہیں۔آخر کار اس تقدیم ہوائے نفس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوتے اور بجائے فائدہ کے نقصان عظیم اُٹھاتے ہیں۔اسلام پر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ ناکامی صرف جھوٹے ہونے کی وجہ سے پیش آتی ہے۔جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے التفات کم ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے جو اس کو نا مراد اور ناکام بنا دیتا ہے۔خصوصاً ان لوگوں کو جوبصیرت رکھتے ہیں جب وہ دنیا کے مقاصد کی طرف اپنے تمام جوش اور ارادے کے ساتھ جھک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو نا مراد کر دیتا ہے۔لیکن سعیدوں کو وہ پاک اصول پیشِ نظر رہتا ہے جو احساسِ موت کا اصول ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح ماں باپ کا انتقال ہو گیا ہے یا جس طرح پر اور کوئی بزرگِ خاندان فوت ہو گیا ہے اسی طرح پر مجھ کو ایک دن مَرنا ہے اور بعض اوقات اپنی عمر پر خیال کرکے کہ بڑ ھا پا آگیا اور موت کے دن قریب ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں عمریں علی العموم ایک خاص مقدار تک مثلاً۵۰ یا ۶۰ تک پہنچتی ہیں۔بٹالہ میں میاں صاحب کا جو خاندان ہے اُس کی عمریں بھی علی العموم اسی حد تک پہنچتی ہیں۔اس طرح پر اپنے خاندان کی عمروں کا اندازہ اور لحاظ بھی انسان کو احساسِ موت کی طرف لے جاتا ہے۔غرض یہ بات خوب ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آخر ایک نہ ایک دن دنیا اور اس کی لذتوں کو چھوڑنا ہے تو پھر کیوں انسان اس وقت سے پہلے ہی ان لذّات کے ناجائز طریقِ حصول چھوڑ دے۔موت نے بڑے بڑے راست بازوں اور مقبولوں کو نہیں چھوڑا اور وہ نوجوانوں یا بڑے سے بڑے دولت مند اور بزرگ کی پروا نہیں کرتی پھر تم کو کیوں چھوڑنے لگی۔پس دنیا اور اس کی راحتوں کو زندگی کے منجملہ اسباب سے سمجھو اور خدائے تعالیٰ کی عبادت کا ذریعہ۔سعدی نے اس مضمون کو یُوں ادا کیا ہے۔؎ خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تو معتقد کہ زیستن از بہر خوردن است یہ نہ سمجھو کہ خدا ہم سے خواہ مخواہ خوش ہوجائے اور ہم اپنے احتظاظ میں رہیں مگر ایسے اندھوں کو اگر خدا کی طرف سے ہی پروانہ آجائے تو وہ ان لذتوں کو جوجسمانی خواہشوں اور ارادوں کی پیروی میں سمجھتے