ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 86

۳۱ ؍مئی ۱۹۰۲ء شرک کی اقسام شرک تین قسم کا ہے اوّل یہ کہ عام طور پر بُت پرستی، درخت پرستی وغیرہ کی جاوے یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے۔دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فلاں کام نہ ہوتا تو میں ہلاک ہوجاتا یہ بھی شرک ہے۔تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شَے سمجھا جاوے۔موٹے شرک میں توآج کل اس روشنی اور عقل کے زمانہ میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا، البتہ اس مادی ترقی کے زمانہ میں شِرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔طاعون کے پھیلنے پر یہ کوئی خیال نہیں کرتا کہ شامتِ اعمال سے پھیلی ہے اور اَور اسباب کی طرف توجہ کرتے ہیں۔نماز عربی زبان میں پڑھنی چاہیے نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قر آن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔کچھ بھی باقی نہ رہا۔قرآن مجید میں طاعون کے متعلق پیشگوئی قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون سے کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔جیسے فرمایا ہے اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا الاٰیۃ (بنیٓ اسـرآءیل : ۵۹) اس سے لازم آتا ہے کہ کوئی قریہ مَسِّ طاعون سے باقی نہ رہے۔اس لیے قادیان کی نسبت یہ فرمایا اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ یعنی اس کو انتشار اور افراتفری سے اپنی پناہ میں لے لیا۔سزائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک بالکلیۃ اہلاک کرنے والی جس کے مقابلہ میں فرمایا لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔یعنی یہ مقام اہلاک سے بچایا جاوے گا۔دوسری قسم سزا کی بطور تعذیب ہوتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ