ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 85

لفاظ ہیں اور یہ اس لیے کہ خدا تعالیٰ کی عزّت اور جلال اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت اور عظمت اور جلال خاک میں ملادیا گیا ہے اور حضرت عیسیٰ اور حضرت حسین کے حق میں ایسا غلو اور اطرا کیا گیا ہے کہ اس سے خدا کا عرش کانپتا ہے۔اب جبکہ کرو ڑ ہا آدمی حضرت عیسیٰ کی مدح و ثنا سے گمراہ ہو چکے ہیں اور ایسا ہی بے انتہا مخلوق حضرت حسین کی نسبت غلو اور اطرا کر کے ہلا ک ہو چکی ہے تو خدا کی مصلحت اور غیرت اس وقت یہی چاہتی ہے کہ وہ تمام عزّتوں کے کپڑے جو بےجا طور پر ان کو پہنا ئے گئے تھے اُن سے اُتار کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کو پہنائے جاویں۔پس ہماری نسبت یہ کلمات درحقیقت خدا تعالیٰ کی اپنی عزّت کے اظہار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لیے ہیں۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے دل میں اصلی اور حقیقی جوش یہی ہے کہ تمام محامد اور مناقب اور تمام صفاتِ جمیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کروں۔میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت دنیا میں قائم ہو۔میں یقیناً جانتاہوں کہ میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات اور تمجیدی باتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں۔یہ بھی درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف راجع ہیں اس لیے کہ میں آپ کا ہی غلام ہوں اور آپ ہی کے مشکوٰۃِ نبوت سے نور حاصل کرنے والا ہوں اور مستقل طور پر ہمارا کچھ بھی نہیں۔اسی سبب سے میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ میں مستقل طور پر بلااستفاضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مامور ہوں اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہوں تو وہ مردود اور مخذول ہے۔خدا تعالیٰ کی ابدی مُہر لگ چکی ہے اس بات پر کہ کوئی شخص وصول اِلَی اللہ کے دروازہ سے آنہیں سکتا ہے بجُز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے۔۱