ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 462

رسول کی قومی زبان میں الہام بعض لوگ جہالت سے اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہے کہ ہر ایک قوم کی زبان میں الہام ہونا چاہیے جیسے وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ (ابراہیم : ۵) مگر تم کو عربی میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ تو ایک تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا سے پوچھو کہ کیوں ہوتے ہیں اور اس کا اصل سرّ یہ ہے کہ صرف تعلق جتلانے کی غرض سے عربی میں الہامات ہوتے ہیں کیونکہ ہم تابع ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ عربی تھے۔ہمارا کا روبار سب ظِلّی ہے اور خداکے لئے ہے۔پھر اگر اسی زبان میں الہام نہ ہو تو تعلق نہیں رہتا۔اس لئے خدا تعالیٰ عظمت دینے کے واسطے عربی زبان میں الہام کرتا ہے اور اپنے دین کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے جس بات کو ہم ذوق کہتے ہیں اسی پر وہ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ اصل متبوع کی زبان کو نہیں چھوڑتا۔اور جس حال میں یہ سب کچھ اسی (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی خاطر ہے اور اسی کی تائید ہے تو پھر اس سے قطع تعلق کیوں کر ہو۔اور بعض وقت انگریزی، اردو، فارسی میں بھی الہام ہوئے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ جتلادیوے کہ وہ ہر ایک زبان سے واقف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فارسی زبان میں الہام اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض ہوا تھا کہ کسی اور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتا تو آپ کو اﷲ تعالیٰ نے فارسی میں الہام کیا’’ایں مُشتِ خاک را گر نہ بخشم چہ کنم‘‘ آخر کار خدا کی رحمت ہی کاروبار کرے گی اور یہ ویسی ہی بات ہے جیسے یہود نے کہاتھا کہ پیغمبر آخر زمان بنی اسرائیل میں سے ہونا چاہیے تھا اور جس قدر نبی آئے ہیں سب کے بارے میں اسی طرح شبہات پڑتے رہے ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام کے وقت یہود کو کس قدر شبہات آئے۔پیغمبر خدا کے وقت میں بھی پڑے کہ بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ آیا۔یہ عادت اﷲ ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور مخفی رکھا جاتا ہے کہ ایمان بالغیب کی حقیقت رہے ورنہ پھر ایمان پر ثواب کیا مرتّب ہو۔حَکم کا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ حکم ہوگا جس کے یہ معنے ہیں کہ سچی بات پیش کرے گا اور رطب ویابس کو اٹھادے گا اور احادیث تو ذخیرہ ظنّوں کا ہے