ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 463

شیعہ، وہابی، سُنّی وغیرہ جو تہتّر فرقہ اہلِ اسلام کے ہیں سب احادیث ہی کو پیش کرتے ہیں اور حَکم کا کام ہے وہ ان میں تحقیق کرے اور جو سچی بات ہوا سے قبول کرے ورنہ پھر ہر ایک فرقہ کا حق ہے کہ اسے مجبور کرے کہ میری مان۔اور اسے کہا جا سکتا ہے کہ جب ایک کی پیش کردہ احادیث کو تم بلا اعتراض مان لیتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے فرقوں کی حدیثوں کو بھی ویسے ہی نہ مانا جاوے۔پھر اس صورت میں وہ آنے والا حَکم کیا رہا۔حَکم کا لفظ بتلا رہا ہے کہ ایسے وقت میں کچھ لیا جاتا ہے اور کچھ چھوڑا جاتا ہے۔موزوں پر مسح موزوں پر مسح کا ذکر ہوا تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ سُوتی موزہ پر بھی مسح جائز ہے اور آپ نے اپنے پائے مبارک کو دکھلایاجس میں سُوتی موزے تھے کہ میں ان پر مسح کر لیا کرتا ہوں۔اس زمانہ میں آخر دعائوں کے ساتھ مقابلہ ہوگا ہمارے پیغمبر خدا نے جبکہ تیرہ سال تک تلوارنہ اٹھائی تو امام مہدی کو کیسے حق پہنچتا ہے کہ جس حالت میں تیرہ سو سال سے لوگ دین سے ناواقف ہو گئے ہیں آتے ہی ان پر تلوار اٹھالیوے اور اس سے اسے کیا فائدہ ہوگا؟ اگر امام مہدی نے لڑائی کے لئے آنا تھا تو اﷲ تعالیٰ اپنی سنّتِ قدیمہ کے موافق پہلے مسلمانوں کی قوم کو جنگ آزمائی سے آگاہ کر دیتا اور ان کی طبائع کامیلان جنگ کی طرف ہوتا اور ایسے اسباب ہوتے کہ مسلمان جنگ میں مشّاق ہوتے مگر اہلِ اسلام کی موجودہ حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جنگ سے کوئی انس نہیں اور جس قدر لوگ آج کل مہدی کے نام سے مدّعی ہو کر یورپ کی اقوام سے جنگ کر چکے ہیں ان تمام نے شکستیں کھائی ہیں۔ان تمام باتوں اور اسباب سے مفہوم ہوتا ہے کہ ارادہ الٰہی جنگ کا ہرگز نہیں ہے۔یقین رکھو کہ جسمانی تلواروں کے ساتھ ان کامقابلہ کوئی نہ کر سکے گا۔خود مسلم کی حدیث میں ہے کہ اس زمانہ میں آخر دعائوں کے ساتھ مقابلہ ہوگا۔جن کو نہ یہ روک سکتے ہیں اور نہ مقابلہ کر سکتے ہیں۔اور یہی دعائیں ہوں گی کہ جن سے مخالفوں کی حالت میں روحانی تبدیلی ہو جاوے گی۔