ملفوظات (جلد 3) — Page 34
تصویر اتر آتی ہے۔اﷲ تعالیٰ کا نام مصوّر ہے يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ (اٰلِ عـمران : ۷) پھر بلا سوچے سمجھے کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔اصل بات یہی ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ تصویر کی حُرمت غیر حقیقی ہے کسی محل پر ہوتی ہے اور کسی پر نہیں۔غیر حقیقی حُرمت میں ہمیشہ نیت کو دیکھنا چاہیے۔اگر نیت شرعی ہے تو حرام نہیں ورنہ حرام ہے۔حدیثوں ہی پر تکیہ نہ کر لو۔اگر قرآن شریف پر حدیث کو مقدم کرتے ہو تو پھر گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتے ہو کہ کیوں انہوں نے احادیث کو خود جمع نہیں کرایا کیونکہ آپؐنے کوئی حکم احادیث کے جمع کرنے کو نہیں فرمایا حالانکہ قرآن شریف کو آپؐخود لکھواتے اور سناتے تھے۔بعض صحابہؓ نے احادیث کو اپنے طور پر جمع کیا لیکن آخر انہوں نے جلا دیا۔جب سبب دریا فت کیا تو یہی بتایا کہ آخر راویوں سے سُنی ہیں ممکن ہے ان میں کمی بیشی ہوئی ہو۔اپنے ذمہ کیوں بوجھ لیں۔پس قرآن کو مقدم کرو اور حدیث کو قرآن پر عرض کرو حکم نہ بنائو۔۱ ۱۲ ؍ فروری ۱۹۰۲ء ضروری اعلان حضرت مسیح موعود اَدَامَ اللہُ فُیُوْضَہُمْ نے ارشاد فرمایا ہے کہ الحکم کے ذریعہ اپنے تمام دوستوں کو اطلاع دے دی جاوے کہ چونکہ طاعون پنجاب کے اکثر حصوں میں زور کے ساتھ پھیل گیا ہے اور پھیلتا جاتا ہے ایسی صورت میں یہ اَمر قرین مصلحت نہیں کہ ایسا مجمع ہو جس میں وبازدہ علاقوں کے لوگ بھی شامل ہوں۔اس لیے عیدالاضحیٰ پر جو تجویز امتحان کی قرار پائی تھی وہ کسی دوسرے وقت کے لیے ملتوی کی جاتی ہے۔وہ لوگ جن کے شہروں اور دیہات میں طاعون شدت کے ساتھ پھیل گیا ہے اپنے شہروں سے دوسری جگہ نہ جائیں۔اپنے مکانوں کی صفائی کریں اور انہیں گرم رکھیں اور ضروری تدابیر حفظِ ماتقدم کی عمل میں لائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سچی توبہ کریں اور پاک تبدیلی کر کے خدا تعالیٰ سے صلح کریں۔راتوں کو اُٹھ اٹھ