ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 33

تاتثلیث کی تردید کر کے دکھائیں کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے جو حیّ وقیّوم، ازلی و ابدی، غیر متغیر ہے اور تجسّم سے پاک ہے۔اس طرح پر اگر خدمتِ اسلام کے لیے کوئی تصویر ہو تو شرع کلام نہیں کرتی ہے کیونکہ جو امور خادمِ شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے پاس کُل نبیوں کی تصویریں تھیں۔قیصر روم کے پاس جب صحابہؓ گئے تھے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اس کے پاس دیکھی تھی۔تو یاد رکھنا چاہیے کہ نفس تصویر کی حُرمت نہیں بلکہ اس کی حُرمت اضافی ہے جو لوگ لغو طور پر تصویریں رکھتے اور بناتے ہیں وہ حرام ہیں۔شریعت ایک پہلو سے حرام کرتی ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔روزہ ہی کو دیکھو رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔ع گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک بالنَّفس حرام ہوتی ہے، ایک بالنّسبت۔جیسے خنزیر بالکل حرام ہے خواہ وہ جنگل کا ہو یا کہیں کا، سفید ہو یا سیاہ، چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک قسم کا حرام ہے۔یہ حرام بالنفس ہے لیکن حرام بالنسبت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص محنت کر کے کسبِ حلال سے روپیہ پیدا کرے تو حلال ہے۔لیکن اگر وہی روپیہ نقب زنی یا قمار بازی سے حاصل کرے تو حرام ہوگا۔بخاری کی پہلی ہی حدیث ہے اِنَّـمَا الْاَ عْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ایک خونی ہے اگر اس کی تصویر اس غرض سے لے لیں کہ اس کے ذریعہ اس کو شناخت کر کے گرفتار کیا جاوے تو یہ نہ صرف جائز ہو گی بلکہ اس سے کام لینا فرض ہو جائے گا۔اسی طرح اگر ایک شخص اسلام کی توہین کرنے والے کی تصویر بھیجتا ہے تو اس کو اگر کہا جاوے کہ حرام کام کیا ہے تو یہ کہنا موذی کا کام ہے۔یاد رکھو اسلام بُت نہیں ہے بلکہ زندہ مذہب ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل نا سمجھ مولویوں نے لوگوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کاموقع دیا ہے۔آنکھوں میں ہر شَے کی تصویر بنتی ہے۔بعض پتھر ایسے ہیں کہ جانور اُڑتے ہیں تو خود بخود اُن کی