ملفوظات (جلد 3) — Page 32
پائے جائیں۔چونکہ یہ ایک ضروری اَمر تھا کہ شفیع ان دونوں مقامات کامظہر ہو اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے ہی اس سلسلہ کا ظِل قائم رکھا، یعنی آدم علیہ السلام کو جب پیدا کیا تو لا ہوتی حصہ تو اس میں یوں رکھ دیا جب کہا فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ(الـحجر :۳۰) اور ناسُوتی حصہ یوںرکھا کہ حوّا کو اس سے پید اکیا۔یعنی جب روح پھونکی تو ایک جو ڑ آدم کا خدا تعالیٰ سے قائم ہو ا۔اور جب حوّا نکالی تو دوسرا مخلوق کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ناسُوتی ہوگیا۔پس جب تک یہ دونو حصے کامل طور پر کامل انسان میں نہ پائے جاویں وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔جیسے آدم کی پسلی سے حوّا نکلی اسی طرح پر کامل انسان کی پسلی سے مخلوق نکلتی ہے۔تصویر او رنماز ایک شخص نے دریافت کیا کہ تصویر کی وجہ سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی؟ جواب میںحضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔کفار کے تتبّع پر تو تصویر ہی جائز نہیں۔ہاں نفسِ تصویر میں حُرمت نہیں بلکہ اُس کی حُرمت اضافی ہے، اگر نفس تصویر مفسد نماز ہو تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا مفسد نہیں ہوسکتا؟ اس کا جوا ب اگر یہ دو کہ روپیہ پیسہ کا رکھنا اضطراری ہے تو میں کہوں گا کہ کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آجاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہو گا اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضرور ی ہے کہ آیااس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں؟ اگر یوں ہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے اور اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ(المؤمنون : ۴) لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے اس لیے اس سے بچنا چاہیے لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعہ سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔مثلاً ہم نے ایک موقع پر عیسائیوں کے مثلّث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ