ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 367

تھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ کشمیر سے ایک پرانا صحیفہ ایک پادری بنام فداہنمس نے حاصل کیا ہے جو کہ دو ہزار سال کا ہے اس میں مسیح کی آمد اوراس کے منجی ہونے کی پیشگوئی ہے حضرت اقدس نے فرمایاکہ بعض وقت پادری لوگ عیسوی مذہب کی عظمت دل نشین کرانے کے واسطے ایسی مصنوعات سے کام لیتے ہیں۔ہمارے نزدیک اس کامعیار یہ ہے کہ اگر اس صحیفہ میں تثلیث کا ذکر ہوتو سمجھناچاہیے کہ مصنوعی ہے کیونکہ خود عیسویت کی ابتدامیں تثلیث کاعقیدہ نہ تھا یہ بعد میں وضع ہوا ہے۔عیسیٰ اصل ہے یایسوع پھر اس اَمر پر تذکرہ ہوتا رہا کہ قدیم اوراصل لفظ عیسیٰ ہے یایسوع۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ پرانانام عیسیٰ ہی ہے تمام عرب میں عیسیٰ ہے یسوع کا ذکر پرانے اشعار عرب میں بھی نہیں پایا جاتاچونکہ عیسیٰ نبی تھے اس لئے مصلحتاً انہوں نے کسی موقع پر عیسیٰ کو بدل کر یسوع بنا لیا ہو یہ بھی تعجب ہے کسی اورنبی کانام آج تک نہیں الٹا صرف انہیں کا الٹا اورمذہب بھی انہیں کا الٹا ایسا ہی کسی کا شعر ہے۔؎ نہ ہو کیوںکر ہمارا کام الٹا ہم الٹے، بات الٹی، یار الٹا حکیم نور الدین صاحب نے فرمایا کہ ساری انجیلوں میں کہیں عیسیٰ کانام نہیں آیا یسوع کاآیا ہے۔۱ ۹؍نومبر۱۹۰۲ء بروزیکشنبہ اعجاز احمدی اللہ تعالیٰ کی خاص مددسے لکھی گئی ہے حضرت اقدس حسب معمول بعد ادائے نماز مغرب شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے اور جو مضمون مشمولہ قصائد عربی۲ آج کل زیر تحریر ہے اس کے متعلق زبان مبارک