ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 366

آج کل خواب اور رؤیا بہت ہوتے ہیں معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ لوگوں کو خوابوںسے اطلاع دیوے خدا کے فرشتے اس طرح پھرتے ہیں جیسے آسمان میں ٹڈ ی ہوتی ہے وہ دلوں میں ڈالتے پھرتے ہیںکہ مان لومان لو۔پھر ایک اور شخص کاحال بیان کیا کہ جس نے حضور عالی کے ردّ میں ایک کتاب لکھنے کاارادہ کیا تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ تو تو ردّ لکھتا ہے اور اصل میں مرزا صاحب سچے ہیں۔(بوقتِ مغرب) ساعت کا علم کسی کونہیں حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے۔احباب میں سے ایک نے اٹھ کر عرض کی کہ حضور نے تحفہ گولڑویہ میں دار قطنی کی جو حدیث نقل فرمائی ہے اس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایاکہ اصل قیامت کا علم توسوائے خدا کے کسی کوبھی نہیں حتی کہ فرشتوں کوبھی نہیں اور وہاں ساعۃ کا لفظ ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ عورتوںکے حمل کی میعاد نو ماہ دس دن ہوتی ہے جب نوماہ پورے ہوگئے تو اب باقی دس دن میں کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کون سے دن وضع حمل ہوگا گھر کاہر ایک آدمی بچہ جننے کی گھڑی کامنتظر رہتاہے اسی لئے قیامت کانام ساعت رکھا ہے کہ اس ساعت کی خبر نہیں۔خدا کی کتابوںمیں جو اس کی علامات ہیں ممکن ہے کہ ان سے کوئی آدمی قریب قریب اس زمانہ کاپتہ بھی دیدے مگر اس ساعۃ کی کسی کو خبر نہیں ہے جیسے وضعِ حمل کی ساعت کی کسی کو خبر نہیں۔ایک ڈاکٹر سے بھی پوچھو وہ بھی کہے گا کہ نو ماہ اوردس دن۔مگر جونہی نوماہ گذرے پھر فکر رہتا ہے کہ دیکھیے کون سے دن ہو۔کتابوں سے معلوم ہوتاہے کہ چھ ہزار سال کے بعد قیامت قریب ہے اب چھ ہزار تو گذر گئے ہیں قیامت تو قریب ہوگی مگراس گھڑی کی خبر نہیں۔کشمیر سے ایک پُرانے صحیفہ کی برآمدگی مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے ایک خط کا مضمون سنایا جو کہ سٹریٹ سیٹلمنٹ سے آیا