ملفوظات (جلد 3) — Page 368
سے ارشاد فرمایاکہ اس کی نسبت دل گواہی دیتاہے کہ یہ بالکل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔(مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف مخاطب ہو کر ) آپ بھی دیکھیں گے تو پتہ لگ جائے گاجس طرح کلمہ کی گواہی دی جاتی ہے اسی طرح اس کی گواہی بھی دی جاتی ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے۔یہ حالت بھی ہوتی رہی ہے کہ ذرا اونگھ آئی اور ایک شعر الہام ہوگیا۔اسی طرح کئی اشعار اس میں الہامی ہیں۔وحی جلی بھی ہوتی ہے اورخفی بھی، یہی معلوم ہوتاتھا کہ دل میں مضمون پڑجاتا ہے اور میں لکھتا جاتا ہوں گویایہ میری طرف سے نہیں ہے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ) خدا کی مددسے اس قدر یقین ہے کہ یہ کاروبارایک دن میں ہوسکتاتھا دیر تواس لئے لگتی ہے کہ دوبارہ دیکھنا پڑتا ہے کاپی وغیرہ بھی صحیح کرنا فرض ہے ہر ایک بات میں دیکھا گیا ہے کہ سب سامان خدا نے اوّل سے ہی کیے ہوئے ہیں۔قصیدوں میں واقعات کا نبھانا مشکل اَمر ہوا کرتا ہے شاعر اسے نہیں کرسکتے ان کو قافیہ اور ردیف کے لئے بالکل بے جوڑ باتیں اور الفاظ لانے پڑتے ہیں ( اس مقام پر عربی کے دو فقرے مقاماتِ حریری کے پڑھے جن میں محض تلازم شعرکے لئے بالکل بے تعلق باتیں ذکر کی ہوئی تھیں) اس کے مقابل پر قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔اَللّٰهُ الصَّمَدُ(الاخلاص: ۲، ۳ ) کودیکھو۔۱ قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کے دعویٰ پر بعض نادان آریہ اور عیسائی کہہ دیتے ہیںکہ مقاماتِ حریری وغیرہ بھی فصیح و بلیغ ہیں مگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان میں یہ دعویٰ کہاں کیاگیاہے اور ان کتابوں میں کہاں پر یہ بتصریح لکھا گیاہے کہ قرآن کی تحدّی کے مقابلہ میں ہیں اور علاوہ ازیں ان کو قرآن کے مقابلہ میں پیش کرنابالکل لغو ہے کیونکہ قرآن شریف میں حقائق اور معارف کو بیان کیا گیا ہے اوران کتابوں میں صرف لفظوں کااتباع کیاگیاہے واقعات سے کوئی غرض ہی نہیں رکھی گئی ہے۔۲