ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 364

ذلیل ہوئے کفر کے فتوے لگائے قتل کامقدمہ کیا غرض کہ انہوں نے کوئی دقیقہ ہماری بربادی کا اٹھا نہ رکھا مگر کیا خدا سے کوئی جنگ کرسکتا ہے؟ ہماری ترقی کے خود مخالف ہی باعث اورمحرک ہیں بہت لوگوں نے انہیںکے رسائل سے اطلاع پاکر ہماری بیعت کی۔اگرواعظ وغیرہ ہمار ی طرف سے ہوتے تو ہمیں ان کا بھی مشکور ہوناپڑتا اوریہ بھی ایک شعبہ شرک کا ہوجاتا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بچایا ایک آبپاشی اور تخم ریزی تو کسان کرتاہے اورایک خود خدا کرتاہے ہم اورہماری جماعت خدا کی تخم ریزی اورآبپاشی سے ہیں تو خدا کے لگائے ہوئے پودا کو کون اکھاڑسکتاہے۔۱ مختلف باتوں کے دورا ن فرمایا۔قبول حق کے لئے قوت اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اس کی توفیق کے سوا کوئی چارہ نہیں۔انبیا ء کے معجزات فرمایا۔انبیاء نے کبھی تماشے نہیں دکھائے البتہ جب ان پر شدائد اورمصائب آتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے تماشہ دکھایا کرتا ہے۔جیسے قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ ( الانبیآء : ۷۰ ) سے معلوم ہوتا ہے ایسا ہی ہم پر قتل کا مقدمہ بھی ایک نار تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے نجات دی۔ایک خواب کی تعبیر میں فرمایاکہ انبیاء بھی قینچی کاکام کرتے ہیں ایک طرف سے قطع کرتے ہیں اوردوسری طرف پیوست کرتے ہیں۔صحابہ کرامؓ پاک و صاف رہتے تھے کسی شخص نے کہاکہ صحابہ کے کپڑے میلے کچیلے ہوتے تھے اورپیوند لگے ہوئے ہوتے تھے۔فرمایا۔یہ جھوٹ ہے میلے کچیلے ہونا اور بات ہے اور پیوند ہونے اوربات ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے کہ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدّثر:۶) پس پاک صاف رہناضروری ہے ایسا ہی قرآن شریف میں فرمایا لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ ( الواقعۃ : ۸۰ )۔۲