ملفوظات (جلد 3) — Page 329
بند کر دیا اور قوائے انسانی کی بےحُرمتی کی۔جب کہہ دیا کہ کوئی نیکی کر ہی نہیں سکتا۔مگر اسلام مخلوق کے حقوق کو جائز اور مناسب مقام پر قائم کرتا ہے وہ ایسی تعلیم نہیں دیتا جو نیوگ کے پیرایہ میں دی گئی وہ انسانی قویٰ کی بے حرمتی نہیںکرتا اورانسان کوکفارہ کی تعلیم دے کر سُست نہیںبناناچاہتا اس نے شریعت کو لعنت نہیں بنایا بلکہ انسانی طاقتوں کے اندر اسے رکھا۔اس طرح معاملہ توبالکل صاف ہے اگروہم نہ ہواور قبولِ حق میں کوئی روک نہیںہوسکتی اگر بزدلی نہ ہو۔سائل۔ان مذاہب کی بابت تو مجھے پہلے سے اعتراض ہیںمگر اسلام کی کتابیں میںنے نہیں پڑھی ہیں۔فرمایا۔آپ قرآن شریف کو پڑھیں اس سے معلوم ہوجاوے گا کہ وہ خدا کی نسبت کیاتعلیم دیتا ہے اورمخلوق کی نسبت کیا؟ ان دونوں تعلیموں کو اگر آدمی غورسے دیکھ لے توحق کھل جاتا ہے۔پھر مفتی صاحب نے میور کی ایک تصنیف سنائی جواس نے مسلمانوں سے مناظرہ کرنے کے متعلق ہدایات پر لکھی ہے پھر چند لوگوں نے بیعت کی۔پھر طالب حق نے عرض کیاکہ مجھے خواب آیا تھا کہ تو مسیح کے پاس جا اور اس سے پوچھ اگر وہ کہے کہ میں مسیح ہوں تو پھر وہ جو کہے مان لے۔فرمایا۔ہم توسالہاسال سے اس دعویٰ کی اشاعت کر رہے ہیں اورخدا نے صدہانشان اس کی تائیدمیں دکھائے ہیں جن کو خدا نے سعادت اور فہم دیا ہے وہ سمجھ لیتے ہیں جس کو ان سے حصہ نہیں وہ محروم رہ جاتاہے۔فرمایا۔حق شناسی کی راہ میں اگر وہم اوربزدلی نہ ہوتو کوئی مشکل نہیں ہے۔مشرق اورمغرب میں تلاش کرو اسلام کے سواحق نہیں ملے گا۔مجھے تعجب ہے کہ لوگ ایک پیسہ کی چیز لیتے ہیں تو اسے خوب دیکھ بھال کر لیتے ہیں مگر مذہب کے معاملہ میں توجہ نہیں کرتے۔اگر انسان توہمات میں گرفتار نہ ہو تو آج کل مذہب کے حُسن و قبح معلوم کرنے میں کوئی مشکل نہیں۔مقابلہ کر کے دیکھ لو اگرسچامسلمان انسان ہو جاوے توپاک ہو جاتا ہے دوسرے مذاہب میں یہ نہیں۔کیا ایک عیسائی پاک ہوسکتا ہے؟