ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 328

سے خدا ہی کو تین مانتے ہیں اور یہ ایسامسئلہ ان کے نزدیک ہے کہ وہ سمجھ میں آہی نہیں سکتا اور پھران تین میں سے ایک عاجز انسان بھی ہے جو مریم کے پیٹ سے پیداہوااورجس کی ساری عمر جیسا کہ انجیل سے معلوم ہوتاہے ایک کرب اور اضطراب میں گذری۔ماریں کھاتارہا اور آخر یہودیوں نے اس کو پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا اب اگر خدا کایہی نمونہ ہے تو کون اس پر ایمان لاسکتاہے؟ اِسلام مگراسی خداشناسی کے متعلق جو تعلیم اسلام نے دی ہے وہ ایسی صاف ہے کہ ہر عقل مند کو اس کے ماننے پر مجبور ہوناپڑتا ہے۔اسلام بتاتا ہے کہ اللہ وہ ہے جو تمام صفاتِ حمیدہ سے موصوف اور تمام نقصوں سے مبرا ہے وہ تمام اشیاء کاخالق اورمالک ہے وہ رحمان اوررحیم ہے۔اسلام کسی مخلوق کوخدایاخدا کاہمسر نہیں بناتا۔وہ خالق اورمخلوق میں فرق بتاتاہے۔اب اس اصل میں جب مقابلہ کیاجاوے توکیسے صاف اورواضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی مذہب اس اصل میں اسلام کامقابلہ نہیں کرسکتا اوراسلام ہی سچامذہب ہے۔دوسری اصل پھرمذہب کی دوسری جزویااصل یہ ہے کہ وہ مخلوق کے حقوق کیسے قائم کرتاہے اس اصل میں بھی دوسرے مذاہب کامقابلہ کر کے دیکھو لو۔آریہ مذہب نے تو ایسا ظلم کیا ہے کہ بجز بے غیرتی کے اور معلوم نہیں ہوتا۔اس نے نیوگ کی تعلیم دی ہے کہ جس شخص کے گھر میں اولاد نہ ہوتو وہ اپنی عورت کو دوسرے شخص سے ہم بستر کراوے اور اولاد حاصل کر لے۔اب اس سے بڑ ھ کر پاکیزگی اور غیرت کاخون کیاہوگا کہ ایک شخص کو جس کی بد قسمتی سے دو چار سال تک اولادنہیں ہوئی کہہ دیا جاوے کہ تواپنی بیوی کودوسرے آدمی سے اولاد لینے کی خاطر ہم بستر کرالے یہ کیسی شرمناک بات ہے۔یہاں قادیان میں ایک شخص موجود ہے اس سے جب اس نیوگ کی بابت پوچھا گیا تواس نے یہی کہا کہ کیامضائقہ ہے۔اب کوئی عقل مند اس تعلیم کو کب گوارا کر سکتا ہے۔میںنے پڑھاتھا کہ ایک بنگالی آریہ ہوگیا ایک برہمو نے جب اس پر نیوگ کی حقیقت کھولی تو اس نے ستیارتھ پرکاش کوپھٹکار کر مارا اور کہاکہ یہ مذہب قبول کرنے کے لائق نہیں۔عیسائیوں نے مخلوق پر یہ ظلم کیا کہ کفارہ کی تعلیم دے کر اور شریعت کو لعنت کہہ کر نیکی کادروازہ ہی