ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 312

اور بالکل صلاحیت ہی ہو۔نفس اور شیطان کو مغلوب کر چکا ہو۔قرآن شریف ان سب کو مسلمان ہی کہتا ہے۔ہماری جماعت ہی کو دیکھ لو کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ سب کی سب ہمارے مخالفوں ہی سے نکل کر بنی ہے اور ہر روز جو بیعت کرتے ہیںیہ ان میں ہی سے آتے ہیں ان میں صلاحیت اور سعادت نہ ہوتی تو یہ کس طرح نکل کر آتے۔بہت سے خطوط اس قسم کی بیعت کرنے والوں کے آئے ہیں کہ پہلے میں گالیاں دیا کرتا تھا مگر اب توبہ کرتا ہوں مجھے معاف کیا جاوے۔غرض صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو تو وہ صالحین میں داخل سمجھا جاتا ہے۔مسیح کا جنازہ بعد ادائے نماز مغرب جب ہمارے سید ومولیٰؑ شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے تھے تو ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب رعیہ نے عرض کی کہ ایک شخص منشی رحیم بخش عرضی نویس بڑا سخت مخالف تھا مگر اب تحفہ گولڑویہ پڑھ کر اس نے مسیح کی موت کا تو اعتراف کر لیا ہے اور یہ بھی مجھ سے کہا کہ مسیح کا جنازہ پڑھیں۔میں نے تو یہی کہا کہ بعد استصواب و استمزاج حضرت اقدس جواب دوں گا۔فرمایا۔جنازہ میّت کے لئے دعا ہی ہے کچھ حرج نہیں۔وہ پڑھ لیں۔اَلْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ہمارے ناظرین منشی شاہدین صاحب سٹیشن ماسٹر مردان سے خوب واقف ہیں وہ اس سلسلہ میں قابل قدر شخص ہیں تبلیغ اور اشاعت کا سچا شوق رکھتے ہیں جہاں جاتے ہیں ایک جماعت ضرور بنا دیتے ہیں۔الحکم کے خاص معاونین میں سے ہیں بہر حال ناظرین یہ بھی جانتے ہیں کہ مردان میں بعض شریر النَّفس لوگوں کی طرف سے ان کو سخت ایذائیں دی گئیں اور آخر ان کی شرارت سے ان کی تبدیلی ہوگئی۔حضرت اقدس کے حضور جب ان کی تکالیف اور مصائب کا ذکر ہوا تھا تو آپ نے صبر اور استقامت کی تعلیم دی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر خدا تعالیٰ نے اظہارِ حق کیا۔افسران بالادست نے بدوں کسی قسم کی تحریک کے جو منشی صاحب کی طرف سے کی جاتی از خود