ملفوظات (جلد 3) — Page 311
بنی اسرائیل بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کا دیا ہوا لقب ہے اسرائیل کے معنے ہیں جو خدا سے بے وفائی نہیں کرتے اس کی اطاعت اور محبت کے رشتہ میں منسلک قوم۔حقیقی اور اصلی طور پر اسلام کے یہی معنی ہیں بہت سی پیشگوئیوں میں جو اسرائیل کا نام رکھا ہے۔یہ قلّت ِفہم کی وجہ سے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی ہیں۔اسرائیل سے مُراد اسلام ہی ہے اور وہ پیشگوئیاں اسلام کے حق میں ہیں۔اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ فرمایا۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الارض سے مُراد جو شام کی سرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جو اب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔خدا تعالیٰ نے يَرِثُهَا فرمایا یَـمْلِکُھَا نہیں فرمایا۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو وہ قبضہ اس قسم کا ہوگا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی عظمت ہے۔ارضِ شام چونکہ انبیاء کی سر زمین ہے اس لئے اﷲ تعالیٰ اس کی بے حُرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ (الانبیآء : ۱۰۴)فرمایا، صالحین کے معنے یہ ہیں کہ کم ازکم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔مومنوں کے مدارج مومن کی جو تقسیم قرآن شریف میں کی گئی ہے اس کے تین ہی درجے اﷲ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ظالم۔مقتصد۔سابق بالخیرات۔یہ ان کے مدارج ہیں ورنہ اسلام کے اندر یہ داخل ہیں۔ظالم وہ ہوتا ہے کہ ابھی اس میں بہت غلطیاں اور کمزوریاں ہیں اور مقتصد وہ ہوتا ہے کہ نفس اور شیطان سے اس کی جنگ ہوتی ہے مگر کبھی یہ غالب آجاتا اور کبھی مغلوب ہوتا ہے کچھ غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور صلاحیت بھی۔اور سابق بالخیرات وہ ہوتا ہے جو ان دونوں درجوں سے نکل کر مستقل طو رپر نیکیاں کرنے میں سبقت لے جاوے