ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 313

اس مقدمہ کی تفتیش کی اور انجام کار منشی شاہدین صاحب ترقی پر گوجر خان ایک عمدہ سٹیشن پر تبدیل ہوئے اور ان کے متعلق بہت ہی اطمینان بخش رائے افسروں نے قائم کی۔غرض جب منشی صاحب کی اس کامیابی کا ذکر ہوا فرمایا۔عاقبت متقی کے لئے ہے۔برگردن او بماند و بر ما بگذشت والا معاملہ ہو گیا۔خدا تعالیٰ نیک نیت حاکم کو اصلیت سمجھا دیتا ہے اگر اصلیت نہ سمجھیں تو پھر اندھیر پید اہو۔بغداد کی تباہی بغداد وغیرہ کی تباہی کے ذکر پر جو ہلا کونے کی فرمایا کہ بدکاری حد سے بڑھ گئی تھی۔آخر خدا تعالیٰ نے اس طرح پر ان کو تباہ کیا لکھا ہے کہ آسمان سے آواز آتی تھی۔اَیُّـھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُوا الْفُجَّارَ۔فرمایا۔صادق مخالفوں کی شرارت اور ایذارسانی سے اگر مارا بھی جاتا ہے تو وہ شہید ہوتا ہے مگر وہ ناعاقبت اندیش طاعون کا شکار ہونے کو باقی رہ جاتے ہیں جو ان کی شامتِ اعمال سے آتی ہے۔اذان ایک عمدہ شہادت ہے اذان ہو رہی تھی آپ نے فرمایا۔کیسی عمدہ شہادت ہے جب یہ ہوا میں گونجتی ہوئی دلوں تک پہنچتی ہے تو اس کا عجیب اثر پڑتا ہے۔دوسرے مذاہب کے جس قدر عبادت کے بلانے کے طریق ہیں وہ اس کامقابلہ نہیں کر سکتے انسانی آواز کامقابلہ دوسری مصنوعی آوازیں کب کر سکتی ہیں؟ جماعت کے لیے غلبہ کا وعدہ اپنی جماعت کے ذکر پر فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس جماعت کے لئے وعدہ فرمایا ہےوَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اور خدا کے وعدے سچے ہیں۔ابھی تو تخم ریزی ہو رہی ہے ہمارے مخالف کیا چاہتے ہیں؟ اور خدا تعالیٰ کا کیا منشا ہے یہ تو ان کو ابھی معلوم ہو سکتا ہے اگر وہ غور کریں کہ وہ اپنے ہر قسم کے منصوبوں اور چالوں میں ناکام اور نامُراد رہتے ہیں۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف کیا چاہتے تھے؟ ان کا تو یہی مدّعا اور مقصد تھا کہ اس جماعت