ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 304

کے سامنے ایک بڑھیا نے حدیث پیش کی تو انہوں نے یہی کہا کہ میں ایک بڑھیا کے لئے قرآن نہیں چھوڑ سکتا۔ایسا ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے ماتم کرنے سے مُردہ کو تکلیف ہوتی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(الانعام : ۱۶۵) پس قرآن پر حدیث کو قاضی بنانے میں اہلِ حدیث نے سخت غلطی کھائی۔اصل بات یہ ہے کہ اپنی موٹی عقل کی وجہ سے اگر کوئی چیز قرآن میں نہ ملے تو اس کو سنّت میں دیکھو اور پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ جن باتوں میں ان لوگوں نے قرآن کی مخالفت کی ہے خود ان میں اختلاف ہے ان کی افراط تفریط نے ہم کو سیدھی اور اصل راہ دکھا دی جیسے یہودیوں اور عیسائیوں کی افراط اور تفریط نے اسلام بھیج دیا۔پس حق بات یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنّت کے ذریعہ تو اتر دکھا دیا ہے اور حدیث ایک تاریخ ہے اس کو عزت دینی چاہیے۔سنّت کا آئینہ حدیث ہے۔یقین پر ظن کبھی قاضی نہیں ہوتا کیونکہ ظن میں احتمال کذب کا ہے۔امام اعظم رحمۃاﷲعلیہ کامسلک قابلِ قدر ہے انہوں نے قرآن کو مقدّم رکھا ہے۔نزول اور ختمِ نبوت کی حقیقت احادیث میں مسیح موعود کے لئے نُزُوْلٌ مِّنَ السَّمَاءِ نہیں لکھا نزول کا لفظ ہے اور یہ اظلالی معنی رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔نزیل لغت میں مسافر کو کہتے ہیں کیا وہ آسمان سے اتر تا ہے بہر حال قرآن ہر میدان میں فتح یاب ہے۔آپؐکو خاتم الانبیاء ٹھہرایا اور اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کہہ کر مسیح موعود کو اپنا بروز بتا دیا ہے۔معراج ایک کشف تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کو ردّ کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ بھی رؤیا کہتی ہیں۔حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا