ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 305

کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپؐکو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے معراج ہوا۔پھر آپ نے ا س اَمر کی تائید میں چند آیات سے استدلال کیا کہ جسم آسمان پر نہیں جاتا۔یہ باتیں قریباً پہلے ہم بارہا درج کر چکے ہیں بخوفِ طوالت اعادہ نہیں کرتے۔مسیح کی پیدائش اور خارقِ عادت اُمور مسیح کی پیدائش کے ذکر پر فرمایا کہ خدا کی سنّت دو طرح پر ہوتی ہے ایک کثرتی جیسے عموماً عورت سے دودھ نکلتا ہے مگر بعض اوقات نر سے بھی نکلا کرتا ہے ایسے واقعات دنیا میں ہوئے ہیں۔یہ قلیل الوقوع واقعات خارقِ عادت کہے جاتے ہیں۔۱ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (دربارِ شام) برادر مکرم محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے اپنے گائوں میں بعض لوگوں کی شرارت کے رفع کرنے کے واسطے بعض احباب کو حضرت اقدس کے ایما سے لے جانا چاہا۔اس کی تجویز ہوئی کہ مولوی عبد اﷲ صاحب اور مولوی سرور شاہ صاحب کو بھیجا جاوے۔مسیح کی عصمت پھر مفتی محمد صادق صاحب نے رسالہ بے گناہی مسیح سنایا۔اس کے ضمن میں مندجہ ذیل نکات آپ نے بیان فرمائے۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے اسماء مفعول کے لفظ میں نہیں جیسے قدوس تو ہے مگر معصوم نہیں لکھا کیونکہ پھر بچانے والا اور ہوگا۔اس پر مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور وجودیوں سے جب کبھی مجھے کلام کرنے کاموقع ملا ہے میں نے یہی کہا ہے خدا کا نام موجودنہیں لکھا کیونکہ موجود بمعنی مدرک ہے اور خدا تعالیٰ