ملفوظات (جلد 3) — Page 303
شریعت نہ ہو۔جب خدا کے حکم کو توڑ کر کوئی شہوات کی خواہش کرے تو گناہ ہے اور جو (اشارہ مسیح) اپنے نفس کے لئے نجات چاہتا ہے یہ خود غرضی ہے کہ نہیں؟ مسیح کے گناہ اٹھانے پر فرمایا کہ اس نے تمام کے گناہ اُٹھا کر پھر گناہ کیا کہ اس کو معلوم تھا کہ دعا قبول نہ ہوگی مگر پھر بھی کرتا ہی رہا۔۱ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) قرآن کریم کا مقام اس سلسلہ مضمون میں فرمایا کہ مسلمانوں میں قرآن کی عظمت نہیں رہی۔شیعہ ہیں وہ آئمہ کے اقوال کو مقدم کرتے ہیں اور دوسرے فریق حدیثوں کے ظنی سلسلہ کو قرآن پر قاضی بناتے ہیں۔اسی ذکر میں عبد اﷲ چکڑالوی اور محمد حسین کی بحث کا ذکر آگیا فرمایا۔چکڑالوی نے تفریط کی ہے اور حدیث کو بالکل لا شَے سمجھا اور محمد حسین افراط کی طرف گیا ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن کو لا شَے سمجھتاہے۔کتابُ اﷲ،سنّت اور حدیث پھر آپ نے واضح اور بیّن طور پر اس مضمون پر کلام کیا کہ ہمارے نزدیک تین چیزیں ہیں ایک کتاب اﷲ دوسرے سنّت یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور تیسرے حدیث۔ہمارے مخالفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ سنّت اور حدیث کو باہم ملایا ہے۔ہمارا مذہب حدیث کے متعلق یہی ہے کہ جب تک وہ قرآن اور سنّت کے صریح مخالف اور معارض نہ ہو اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے خواہ وہ محدّثین کے نزدیک ضعیف سے ضعیف کیوں نہ ہو جب کہ ہم اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں تو کیوں حدیث میں آئی ہوئی دعائیں نہ کریں جب کہ وہ قرآن شریف کے مخالف بھی نہیں۔قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانا سخت غلطی ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ