ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 228

آنحضرتؐ۔موسٰی۔عیسٰی کے مصائب پر ذرا غور کرو۔ان باتوں کے ذکر کی ضرورت نہیں۔اوّل خدا سے تعلق پیدا کرو۔جب انسان کسی گھر میں داخل ہوتا ہے تو اندر کے حالات کا آپ ہی پتہ لگ جاتا ہے۔جب تک گھر سے ہزاروں کوس دور ہے تو اندر کے حالات کس طرح بتلا سکے گا۔یہ مناسب ہے کہ چند روز ہمارے پاس رہیں اور خاص ہمارے سلسلہ کے متعلق جو اعتراض ہوں وہ بیان کریں۔تو کارے زمیں را نکو ساختی کہ با آسماں نیز پرداختی ہم نے بعض آدمی ایسے دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ اجی اس جھگڑے کو جانے دو۔رفع یدین، اور انگلی کے اٹھانے کا فیصلہ کرو مگر یہ اپنا اپنا مذاق ہوتا ہے۔نووارد صاحب کی طرف سے سوال ہوا کہ سایہ کا وجود ہے کہ نہیں یعنی اس کی ذات ہے کہ نہیں۔فرمایا۔وجود کے معنی ہیں مَایُوْجَدُ یعنی جو چیز پائی جاوے اس کی ہویت ہو یا نہ ہو۔آپ آئینہ دیکھتے ہیں اس میں چہرہ نظر آتا ہے۔ہویت تو نہیں یعنی ایک مستقل شئے قائم بالذّات پس ہویت تو نہیں لیکن وجود ہے۔وجود اَور ہے ہویت اَور ہے۔آفتاب نے جہاں ظِلّ ہے وہاں بھی دھوپ ڈالنی ہے۔مگر ایک چیز نے درمیان آ کر ظل پیدا کر دیا ہے۔آفتاب اور ظِل کے درمیان جب تک اوٹ نہ ہو سایہ نہیں ہو سکتا۔خیر آپ کو بھی اس وجودیت سے کچھ مذاق ہے اور ہم آپ کے مذاق کے خلاف ہیں۔کُنْ کے اطلاق کا محل پھر سوال ہوا کہ کُنْ کا اطلاق کہاں آتا ہے۔فرمایا۔بات یہ ہے کہ آپ کئی مرتبہ خوابوں میں طرح طر ح کے تمثلات دیکھا کرتے ہوں گے اور بظاہر آپ جانتے ہیں کہ ان کا وجود کچھ نہیں۔حکماء نے بھی لکھا ہے۔پس جس طرح ہمارے تصورات ہوتے ہیں اسی طرح خدائی صفات میں سے اس کے تصورات بھی ہیں۔پس جو تصور آتا ہے اگر انسانی ہے تو وہ ہیچ ہے اور اگر خدا کا ہے تو اس سے مخلوق پیدا ہو جاتی