ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 229

ہے۔مگر خدا کی کُنہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے۔اسلم طریق یہی ہے کہ انسان لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُپر ایمان رکھے۔کہ میرا منصب نہیں کہ خدا کی کل صفات کو میں دیکھ لوں اور ان کی تحقیقات کر لوں۔طبیب بیان کرتے ہیں کہ پانی سرد اور آگ گرم ہے۔مگر یہ نہیں بتلا سکتے کہ پانی سرد کیوں ہے اور آگ گرم کیوں ہے۔فلاسفر بھی یہاں کُنہ اشیا میں آ کر عاجز رہ گئے ہیں۔یہاں اُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ پر چلے کہ ہم خدا پر چھوڑ دیں۔بعض اکابر محی الدّین العربی وغیرہ کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔اس لئے کہ یہ بحث فضول ہے۔بہت امور مرنے کے بعد معلوم ہوں گے اور بہت سے ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی نہیں معلوم ہوں گے۔محی الدّین بھی قائل ہیں کہ انسان متقی ہو اور خدا پر ایمان لانے والا ہو تو نجات پائے گا۔(الحکم جلد۶ نمبر ۳۸ صفحہ ۴-۸ پرچہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء) ۱۲؍اکتوبر ۱۹۰۲ء دربار شام بعد ادائے نماز مغرب حسب معمول حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب سلمہ الرحیم نے شحنہ ہند کے ایڈیٹر کا ایک کارڈ سنایا۔جس میں اس نے اپنا ایک خواب لکھا تھا۔کہ گویا وہ قادیان آیا ہے اور حضرت اقدس کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ سر پائوں سے لگا ہوا ہے۔اس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ مامور ایک آئینہ ہے تعبیر الرؤیا میں یہ صاف لکھا ہے کہ جو لوگ مامورین کو بُری صورت میں دیکھتے ہیں وہ لوگ اپنی پردہ دری کراتے ہیں۔مولوی ابویوسف محمد مبارک علی صاحب کے والد مرحوم نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا کہ ایک ہندو ان کے پاس آیا کرتا تھا جو رغبت اسلام رکھتا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ کشمیر سے آیا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اب میں پکا ہندو ہو گیا ہوں۔لیکن پھر کچھ عرصہ کے بعد جو اس کو دیکھا تو وہ عیسائی