ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 227

نہیں کہ مروڑ کر اور معنی کر لیں۔بعض آدمی مذاق کے دلدادہ ہوتے ہیں۔مگر مذاق بھی ایک قسم کا زہر ہے۔ہمیں مذاقی معنے پسند نہیں کرنا چاہئیں۔بلکہ توریت قرآن اور حدیث کو دیکھنا چاہیئے وہ یہی کہتی ہیں کہ ایک وقت ایسا تھا کہ ان موجودہ چیزوں میں سے ایک بھی نہ تھی۔میرے خیال میں وحدت وجود بھی مذاق سے پیدا ہوا ہے۔کُل کتب گذشتہ سے یہی معنے ثابت ہوتے ہیں اور اس کی تفصیل قرآن اور توریت میں موجود ہے۔اول تو ان بحثوں کی حاجت نہیں۔انسان کے واسطے پہلے تو یہی امر ضروری ہے کہ اجمالی طور پر خدا پر ایمان لاوے۔جب اس کا ایمان پیدا ہو گا تو خودبخود اس پر حقائق کھلتے جاویں گے۔دیکھو۔ایک مرض میں قوت ذائقہ جاتی رہتی ہے۔ترشی، میٹھا، کڑوا، نمکین وغیرہ سب کچھ بے مزہ معلوم دیتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ قوت حاسہ بھی کام دے رہی ہے۔ایک قوت ناک میں ہوتی ہے جس کے وہ نہیں رہتی اس کو اَخْشَمْ کہتے ہیں۔بعض کے کانوں کی قوت ماری جاتی ہے۔پس جب اس طرح بعض قوتیں جاتی رہتی ہیں تو اسی طرح بعض اوقات دینی قوتیں بھی بے حس ہو جاتی ہیں اور انسان سید احمد خاں کی طرح دعا کا قبول ہونا اور ایسی باتیں ناممکن خیال کر بیٹھتا ہے۔قبولیت دعا کا ثبوت دعا کے قبول ہونے پر ہمارا کامل ایمان ہے۔او رہم نے اس کا نتیجہ بھی دیکھا ہے کہ لیکھرام کے قتل سے پہلے پانچ سال مَیں نے خبر دی تھی۔میں نے سید احمد خاں کو لکھا تھا کہ میں نے لیکھرام کے واسطے دعا کی ہے تو مجھے خبر دی گئی ہے کہ تیری دعا قبول ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ اس کو ہیبت ناک موت سے مارے گا۔یہی نمونہ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اگر یہ دعا قبول نہ ہوئی تو تمہارے دعویٰ کا ثبوت ہوا اور اگر قبول ہو گئی تو تم اس عقیدہ سے توبہ کرنا اور وہ لیکھرام کی موت کو دیکھ کر فوت ہوا تھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ۔آنکھیں تو اس کو دیکھ نہیں سکتیں۔اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے۔جب وجودی ہو گیا تو پھر باقی کیا رہ گیا۔اصل میں یہ سب مذاقی باتیں ہیں۔ثبوت تو وہ ہے جس کا نمونہ انسان دکھلا دیوے۔