ملفوظات (جلد 3) — Page 191
کیسی عجیب بات ہے کہ اس صدی سے آگے نہ کوئی مسلمان گیا ہے،نہ عیسائی۔نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ تمام کشوف اور الہام جو مسیح کے متعلق ہیں وہ چودھویں صدی سےآگے نہیں جاتے۔لدھیانہ میں بھی ایک مرتبہ ایک عیسائی نے یہ سوال کیا تھا مگر وہ ایسا لاجواب ہوا کہ آخر اس نے اعتراف کر لیا اور بعض عیسائی اس سے ناراض بھی ہو گئے۔اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی نے اپنی پنجابی نظم و فاتِ مسیح پر پڑھی۔بعد نماز عشاء دربار ختم ہوا۔۱ ۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (سیر) آج کی سیر میں طاعون کے متعلق اِدھر اُدھر کی مختلف باتیں ہوتی رہیں۔(بوقتِ ظہر) تحفۃالنّدوۃ ندوہ کے متعلق جو جدید اشتہار حضرت حجۃاﷲ نے لکھا ہے وہ ایک جزو کے قریب ہوگیا۔آپؑنے فرمایا کہ اب اس کو رسالہ کی صورت میں شائع کیا جاوے۔کتاب میں ایک برکت ہوتی ہے۔لوگ اشتہار کو اشتہار سمجھ کر پروا نہیں کرتے۔اس پرٹائیٹل پیج لگایا جاوے۔برہنہ مرد کب اچھا معلوم ہوتا ہے۔ٹائیٹل پیج اس کا لباس ہے۔اور اس کا نام تحفۃالندوہ رکھ دو۔آج تحفہ غزنویہ بھی شائع ہو گیا۔چونکہ ندوہ کا اجلاس قریب ہے اور کشتی نوح کی اشاعت میں بھی جلدی ہے۔کثرتِ کام کی وجہ سے جو چار پریسوں پر ہو رہا ہے۔سب پتھر رُکے پڑے تھے۔عرض کیا گیا کہ کشتی نوح کی اشاعت میں دیر نہ ہو جاوے۔فرمایا۔ٹیکہ کے متعلق جو ہمارا اصل منشا تھا وہ الحکم کے ذریعہ شائع ہو گیا اور گورنمنٹ تک بھی پہنچ گیا اگر