ملفوظات (جلد 3) — Page 190
دکھانے کے دانت بھی خراب ہیں۔جب دکھانے کے دانتوں کا یہ حال ہے تو کھانے کے تو اور بھی خراب ہوں گے۔کوئی چیز بھی عمدہ نہیں۔خدا بنایا تو ایسا اور اعتقاد تجویز کئے تو ایسے۔تعلیم دی تو ایسی کہ اگر ایک ہفتہ اس تعلیم پر عمل کرنے کے لیے عدالتیں بند کر دی جائیں تو پتہ لگ جاوے۔اس شخص نے سچا اسلام نام رکھ کر دراصل اسلام کو گالی دی ہے۔کیونکہ اس نے اسلام کو جھوٹا قرار دیا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ان کی نصرانیت کی قلعی کھولی جاوے۔اباحتی زندگی کو اسلام ٹھہراتے ہیں۔جو کچھ گند اس کتاب کے اندر ہے وہ اس نام ہی سے ظاہر ہے۔پس نصاریٰ کے اسلام کی حقیقت ضرور کھولنی چاہیے۔اسلام کا لفظ صرف قرآن نے ہی اختیار کیا ہے اور کسی نے یہ نام اختیار نہیں کیا۔مسیح کی آمدِ ثانی اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ لاہور سے کسی مارکوئیسی نام عیسائی نے بذریعہ خط دریافت کیا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں جو متی کی انجیل میں لکھا ہے کہ جھوٹے مسیح او رنبی آئیں گے؟ حضرتؑ نے فرمایا کہ اس کا جواب لکھ دیا جاوے اور اس سے پوچھا جاوے کہ یہ جو انجیل میں لکھا ہے کہ چور کی طرح آئوں گا۔اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا مسیح کا نام منافق بھی ہے۔کہیں بادلوں میں آنا لکھا ہے اور کہیں چور کی طرح۔ہم تو حَکم ہو کر آئے ہیں۔پہلے ان ساٹھ ستّر اناجیل کا تو فیصلہ ہو لے کہ کون اُن میں سے سچی ہے اور کون جھوٹی۔ہم تو ایسے وقت آئے ہیں کہ ا س آیت کو پیش کرتے ہوئے بھی ان کو شرم آنی چاہیے۔کیونکہ ان کے حساب کے موافق تو مسیح کی آمد پر بیس برس گذر گئے۔اب تو قانونی میعاد بھی ان کے ہاتھ میں نہیں رہی۔اس لیے بعض اب مایوس ہو کر کلیسیاہی کو مسیح کی آمد ٹھہراتے ہیں اور اسی قسم کی بیجا اور رکیک تاویلیں کرتے ہیں۔پس اب جبکہ ان کے حساب اور اعتقاد کے موافق اب سچے مسیح کو بھی قدم رکھنے کو جگہ نہیں تو پھر فرشتوں کے ساتھ آنا اور وہ جلالی آمد تو غلط ہی ٹھہری۔چور کی طرح آنا ہی صحیح ثابت ہوا۔پہلے اپنے گھر میں اناجیل کا فیصلہ کر لیں۔جھوٹے مسیح جو لکھا ہے تو اب تو سچے کا وقت بھی گذر گیا۔تم خود بتائو کہ یہ زمانہ سچے مسیح کا ہے یا جھوٹے مسیح کا۔تمہارے بزرگوں نے مان لیا ہے۔اسی لئے جو عقل مند ہیں وہ اس مضمون کا ذکر بھی نہیں کرتے