ملفوظات (جلد 3) — Page 192
(بین المغرب و العشاء) طاعون کا ذکر بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے اور طاعون کے ذکر چلنے پر فرمایا۔خواہ کچھ ہی ہو اگر کوئی چاہے کہ یہ بَلا ارضی تدابیر سے ٹل جاوے تو یہ محال ہے۔خدا کا ایک قانون ہے کہ جس قدر کوئی قابل ہے اُسی قدر اُسے بچایا جاتا ہے۔دیکھو شہروں میں جو بکرے ذبح ہوتے ہیں۔وہ ان کیڑوں مکوڑوں سے بہت ہی کم ہوتے ہیں جو پائوں کے نیچے آکر ہر روز مارے جاتے ہیں۔اور بکروں کی نسبت گائے زیادہ مفید ہے وہ اس کی نسبت کم ذبح ہوتی ہیں۔اور اُونٹ اس سے زیادہ مفید ہے وہ اس کی نسبت کم ذبح ہوتا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر قابلِ قدر جانور ہے اسی قدر کم ذبح ہوتا ہے۔انسان ان سب سے زیادہ قابل قدر ہے۔اس پر وہ چُھری نہیں چلتی جو اُن جانوروں پر چلائی جاتی ہے۔پھر ان انسانوں میں سے بھی جو سب سے زیادہ قابلِ قدر ہے اسے اﷲ تعالیٰ محفوظ رکھتا ہے۔اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق رکھتے اور اپنے اندرونہ کو صاف رکھتے ہیں۔اور نوعِ انسان کے ساتھ خیر اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں اور خدا کے سچے فرمانبردار ہیں۔چنانچہ قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ(الفرقان : ۷۸ ) اس کے مفہوم مخالف سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ دوسروں کی پرواہ کرتا ہے اور وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو سعادت مند ہوتے ہیں۔وہ تمام کسریں ان کے اندر سے نکل جاتی ہیں جو خدا سے دور ڈال دیتی ہیں اور جب انسان اپنی اصلاح کر لیتا ہے اور خدا سے صلح کر لیتا ہے تو خدا اس کے عذاب کو بھی ٹلا دیتا ہے۔خدا کو کوئی ضد تو نہیں چنانچہ اس کے متعلق بھی صاف طور پر فرمایا ہے مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ (النِّسآء: ۱۴۸) یعنی خدا نے تم کو عذاب دے کر کیا کرنا ہےاگر تم دیندار ہو جائو۔طاعون بڑا خطرناک عذاب ہے۔بیوی بچے ہی نہیں تباہ ہوتے بلکہ یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ جنازہ کا بھی کوئی انتظام نہیں ہو سکتا مَرنے والا تو مَر جاتا ہے دوسرے جو