ملفوظات (جلد 3) — Page 9
سی غم میں رکھی تھی۔مختصر یہ کہ دعا کایہ اُصول ہے جو اس کو نہیں جانتاوہ خطرناک حالت میں پڑتا ہے اور جو اس اُصول کو سمجھ لیتا ہے اس کا انجام اچھااور مبارک ہوتاہے۔متقی کے لیے مصائب ترقی کا باعث ہوتے ہیں اور جو لوگ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جب ان کو پکڑتا بھی ہے تو پھر جان لینے ہی کے لیے پکڑتا ہے۔مگر مومن کے حق میں اس کی یہ عادت نہیں ہے۔اُن کی تکالیف کا انجام اچھاہوتاہے اور انجام کار متقی کے لیے ہی ہے جیسے فرمایا وَالْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ(الزّخرف: ۳۶) اُن کو جو تکالیف اور مصائب آتے ہیں وہ بھی ان کی ترقیوں کا باعث بنتے ہیں تاکہ ان کو تجربہ ہوجاوے اللہ تعالیٰ پھر ان کے دن پھیر دیتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص کے شکنجہ کے دن آتے ہیں اس پر بہائمی زندگی کا اثر نہیںرہتا اس پر ایک موت ضرور آجاتی ہے اور خدا شناسی کے بعد وہ لذتیںاو رذوق جو بہائمی سیرت میں معلوم ہوتے تھے نہیں رہتے بلکہ ان میں تلخی اور کدورت و کراہت پیدا ہوتی ہے اور نیکیوں کی طرف توجہ کرنا ایک معمولی عادت ہو جاتی ہے پہلے جو نیکیوں کے کرنے میں طبیعت پر گرانی اور سختی ہوتی تھی وہ نہیں رہتی۔پس یاد رکھو کہ جب تک نفسانی جوشوں سے ملی ہوئی مُرادیں ہوتی ہیں اس وقت تک خدا ان کو مصلحتاً الگ رکھتاہے اور جب رجوع کرتاہے تو پھر وہ حالت نہیں رہتی۔اس بات کو کبھی مت بھولو کہ دنیا روزے چند آخر کار با خدا وند۔اتنا ہی کام نہیں کہ کھا پی لیا اور بہائم کی طرح زندگی بسر کر لی۔انسان بہت بڑی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے۔اس لیے آخرت کی فکر کرنی چاہیے اور اس کی تیاری ضروری ہے۔اس تیاری میں جو تکالیف آتی ہیں وہ رنج اور تکلیف کے رنگ میں نہ سمجھو بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر بھیجتا ہے جن کو دونوں بہشتوں کامزہ چکھانا چاہتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرّحـمٰن:۴۷)۔مصائب آتے ہیں تاکہ ان عارضی اُمور کو جو تکلّف کے رنگ میں ہوتے ہیں نکال دے۔