ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 10

مولوی رومیؒ نے کیا اچھا کہا ہے۔؎ عشق اوّل سرکش و خُونی بود تا گریزد ہر کہ بیرونی بود سید عبدالقادر جیلانیؓ بھی ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ جب مومن، مومن بنناچاہتاہے تو ضرور ہے کہ اس پردکھ اور ابتلا آویں اور وہ یہاں تک آتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کوقریب موت سمجھتاہے اور پھر جب اس حالت تک پہنچ جاتاہے تو رحمت الٰہیہ کاجو ش ہوتاہے تو قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا(الانبیآء:۷۰) کا حکم ہوتا ہے۔اصل اور آخری بات یہی ہے۔مگر نہ شنیدہ کہ ع خدا داری چہ غم داری ۱ آیاتِ مُبین میرے نزدیک آیات مبین وہ ہوتی ہیں مخالف جس کے مقابلہ سے عاجز ہو جاوے خواہ وہ کچھ ہی ہو۔جس کا مخالف مقابلہ نہ کر سکے وہ اعجا ز ٹھہر جا ئے گاجبکہ اس کی تحدی کی گئی ہو۔یاد رکھنا چاہیے کہ اقتراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔نبی کبھی جرأت کر کے یہ نہیں کہے گا کہ تم جو نشا ن مجھ سے مانگومیں وہی دکھا نے کو تیار ہوں۔اس کے منہ سے جب نکلے گا یہی نکلے گا اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ (العنکبوت:۵۱) اور یہی اس کی صداقت کا نشا ن ہوتا ہے۔کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھے ہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہو تی اس لیے وہ ایسے اعترا ض کرتے ہیں اور نہ ذاتِ باری کی عزّت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہوتا ہے۔ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیںوہ وہی کر دے یہ سوئِ ادب ہے اور ایسا خدا خداہی نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امید اور حو صلہ دلایا کہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤ من: ۶۱)