ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 8

گستاخی کرتا اور بے ادبی کی جرأت کرتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چا ہیے کہ بعض لوگ بےصبری سے کام لیتے ہیں اور مدا ری کی طر ح چا ہتے ہیں کہ ایک دَم میں سب کام ہو جائیں میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بےصبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑے گا۔اپنا ہی نقصان کرے گا۔بے صبری کر کے دیکھ لے وہ کہاں جائے گا؟ میں ان باتوں کو کبھی نہیں مان سکتا اور درحقیقت یہ جھوٹے قصے اور فرضی کہانیاں ہیںکہ فلاں فقیر نے پھونک مار کر یہ بنا دیا اور وہ کر دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت اور قرآن شریف کےخلاف ہے اس لیے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ہر اَمر کے فیصلہ کے لیے معیا ر قرآن ہے۔دیکھو! حضرت یعقو ب علیہ السلا م کا پیا را بیٹا یوسف علیہ السلام جب بھا ئیوں کی شرارت سے ان سے الگ ہو گیا تو آپ چالیس برس تک اس کے لیے دعا ئیں کرتے رہے۔اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدانہ ہوتا۔چالیس برس تک دعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دعائیں کھینچ کر یوسف علیہ السلام کو لے ہی آئیں۔اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسف کو بے فائدہ یاد کرتا ہے۔مگر اُنہوں نے یہی کہاکہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔بےشک ان کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ (یوسف:۹۵) پہلے تو اتنا ہی معلوم تھاکہ دعاؤں کا سلسلہ لمباہوگیا ہے اللہ تعالیٰ نے اگر دعاؤں میں محروم رکھناہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا مگر اس سلسلہ کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھاکر کبھی محروم نہیں کرتا بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا، وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازہ پر بٹھائے تو آخر اس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتاہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے دعاؤں کے زمانہ کی درازی پر وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ (یوسف: ۸۵) قرآن میں خود دلالت کر رہی ہیں۔غرض دعاؤں کے سلسلہ کے دراز ہونے سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہر نبی کی تکمیل بھی جدا جدا پیرایوں میں کرتاہے حضرت یعقوبؑکی تکمیل اللہ تعالیٰ نے