ملفوظات (جلد 3) — Page 7
رکھتاہے۔اس کا ٹھیک وقت پر طلو ع اور غر وب تو صاف ظا ہر کرتا ہے کہ اس کااپناذاتی کوئی اختیار اور ارادہ نہیں ہے۔ارادہ کامالک تب ہی معلوم ہوتا ہے کہ دعا قبول ہواور کرنے والے اَمر کو کرے اور نہ کرنے والے کو نہ کرے۔غرض اگر قبولیت ِدعانہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر بہت سے شکوک پیدا ہو سکتے تھے اور ہوتے اور حقیقت میںجو لوگ قبولیت دعا کے قائل نہیں ہیں اُن کے پاس اللہ تعالیٰ کی ہستی کی کوئی دلیل ہی نہیں ہے۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو دعا اور اس کی قبولیت پر ایمان نہیں لاتا وہ جہنم میں جائے گا، وہ خداہی کاقائل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی شناخت کا یہی طریق ہے کہ اس وقت تک دعا کرتارہے جب تک خدااس کے دل میں یقین نہ بھر دے او ر اَنَا الْحَقُّ کی آوازاس کو نہ آجاوے۔قبولیت دعا کے لیے صبر شرط ہے اس میںشک نہیں کہ اس مرحلہ کو طے کرنے اور اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت سے مشکلات ہیں اور تکلیفیں ہیں مگر ان سب کا علاج صرف صبر سے ہوتاہے۔حافظ نے کیا اچھاکہا ہے۔شعر ؎ گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود ولیک بخُونِ جگر شود یادرکھوکوئی آدمی کبھی دعا سے فیض نہیں اُٹھا سکتا جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے اور استقلال کے ساتھ دعاؤںمیں نہ لگارہے۔اللہ تعالیٰ پرکبھی بد ظنی اور بد گمانی نہ کرے۔اُس کو تمام قدرتوں اور ارادوں کامالک تصوّر کرے، یقین کرے پھر صبر کے ساتھ دعاؤں میں لگا رہے۔وہ وقت آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اُس کی دعاؤں کو سُن لے گا ا و ر اسے جوا ب دے گا۔جو لو گ اس نسخہ کو استعما ل کر تے ہیں وہ کبھی بد نصیب اور محروم نہیں ہو سکتے بلکہ یقیناً وہ اپنے مقصد میں کامیا ب ہو تے ہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور طاقتیں بے شمار ہیں اس نے انسانی تکمیل کے لیے دیر تک صبر کا قا نو ن رکھا ہے پس اس کو وہ بدلتا نہیں اور جو چاہتا ہے کہ وہ اس قانو ن کو اس کے لیے بدل دے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی جنا ب میں