ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 141

اَخلاقِ الٰہیہ سورۂ فاتحہ اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے پیش کی ہے اور اس میں سب سے پہلی صفت رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بیان کی ہے جس میں تمام مخلوقات شامل ہے۔اسی طرح پر ایک مومن کی ہمدردی کامیدان سب سے پہلے اتنا وسیع ہونا چاہیے کہ تمام چرند، پرند اور کُل مخلوق اس میں آجاوے۔پھر دوسری صفت رحـمٰن کی بیان کی ہے جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تمام جاندار مخلوق سے ہمدردی خصوصاً کرنی چاہیے اور پھر رحیم میں اپنی نوع سے ہمدردی کا سبق ہے۔غرض اس سورۂ فاتحہ میں جو اﷲ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں یہ گویا خدا تعالیٰ کے اخلاق ہیں جن سے بندہ کو حصہ لینا چاہیے۔اور وہ یہی ہے کہ اگر ایک شخص عمدہ حالت میں ہے تو اس کو اپنی نوع کے ساتھ ہر قسم کی ممکن ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔اگر دوسرا شخص جو اس کا رشتہ دار ہے یا عزیز ہے خواہ کوئی ہے اس سے بیزاری نہ ظاہر کی جاوے اور اجنبی کی طرح اس سے پیش نہ آئیں بلکہ ان حقوق کی پروا کریں جو اس کے تم پر ہیں۔اس کو ایک شخص کے ساتھ قرابت ہے اور اس کا کوئی حق ہے تو اس کو پورا کرنا چاہیے۔اَخلاقِ عالیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک اپنے اخلاق دکھائے ہیں کہ بعض وقت ایک بیٹے کے لحاظ سے جو سچا مسلمان ہے منافق کا جنازہ پڑھ دیا ہے بلکہ اپنا مبارک کُرتہ بھی دے دیا ہے۔اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتا رہے یہ اصلاح نہیں ہوتی۔زبان کی بداخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں اس لیے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہیے۔دیکھو! کوئی شخص ایسے شخص کے ساتھ دشمنی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے۔پھر وہ شخص کیسا بیوقوف ہے جو اپنے نفس پر بھی رحم نہیں کرتا اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے جبکہ وہ اپنے قویٰ سے عمدہ کام نہیں لیتا اور اخلاقی قوتوں کی تر بیت نہیں کرتا۔ہر شخص کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے البتہ وہ شخص جو سلسلہ عالیہ یعنی دین اسلام سے علانیہ باہر ہو گیا ہے اور وہ گالیاں نکالتا اور خطرناک دشمنی کرتا ہے اس کامعاملہ اور ہے۔جیسے صحابہؓ کو مشکلات پیش آئے اور اسلام کی توہین انہوں نے اپنے بعض رشتہ داروں سے سنی تو پھر باوجود تعلّقاتِ شدیدہ کے ان کو اسلام مقدم کرنا پڑا اور ایسے واقعات پیش آئے جن میں باپ نے بیٹے کو