ملفوظات (جلد 3) — Page 140
السَّیِّدِیْنَ۔پھر متقی کے لیے تو فرمایا مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطّلاق : ۳، ۴ ) یعنی متقی کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے۔اس کو ایسی جگہ سے رزق دیا جاتا ہے کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔اب بتائو کہ یہ وعدہ سیدوں سے ہوا ہے یا متقیوں سے۔اور پھر یہ فرمایا ہے کہ متقی ہی اﷲ تعالیٰ کے ولی ہوتے ہیں۔یہ وعدہ بھی سیدوں سے نہیں ہوا۔ولایت سے بڑھ کر اور کیا رُتبہ ہوگا۔یہ بھی متقی ہی کو ملا ہے۔بعض نے ولایت کو نبوت سے فضیلت دی ہے اور کہا ہے کہ نبی کی ولایت اس کی نبوت سے بڑھ کر ہے۔نبی کا وجود دراصل دو چیزوں سے مرکّب ہوتا ہے۔نبوت اور ولایت۔نبوت کے ذریعہ وہ احکام اور شرائع مخلوق کو دیتا ہے اور ولایت اس کے تعلقات کو خدا سے قائم کرتی ہے۔پھر فرماتا ہےذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ : ۳)، ھُدًی لِّلسَّیِّدِیْنَ نہیں کہا۔غرض خدا تعالیٰ تقویٰ چاہتا ہے۔ہاں سید زیادہ محتاج ہیں کہ وہ اس طرف آئیں کیونکہ وہ متقی کی اولاد ہیں۔اس لیے ان کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے آئیں نہ یہ کہ خدا تعالیٰ سے لڑیں کہ یہ سادات کا حق تھا۔وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ(الـجمعۃ :۵)۔یہ ایسی بات ہے کہ جیسے یہودی کہتے ہیں کہ بنی اسمٰعیل کو نبوت کیوں ملی۔وہ نہیں جانتے تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( اٰل عـمران : ۱۴۱) خدا تعالیٰ سے اگر کوئی مقابلہ کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔وہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے۔اُس سے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔۱ اگست ۱۹۰۲ء ۲