ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 142

یا بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا۔اس لیے ضروری ہے کہ مراتب کا لحاظ رکھا جاوے۔ع گر حفظِ مراتب نکنی زندیقی ایک شخص ہے جو اسلام کا سخت دشمن ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے وہ اس قابل ہے کہ اُس سے بیزاری اور نفرت ظاہر کی جاوے۔لیکن اگر کوئی شخص اس قسم کا ہو کہ وہ اپنے اعمال میں سُست ہے تو وہ اس قابل ہے کہ اس کے قصور سے درگذر کیا جاوے اور اس سے ان تعلقات پر زَد نہ پڑے جو وہ رکھتا ہے۔جو لوگ بالجہر دشمن ہو گئے ہیں اُن سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی نہیں کی بلکہ ابوجہل کا سر کٹنے پر سجدہ کیا۔لیکن جو دوسرے عزیز تھے جیسے امیر حمزہ جن پر ایک وحشی نے حربہ چلایا تھا تو باوجودیکہ وہ مسلمان تھا۔آپ نے فرمایا کہ میری نظر سے الگ چلا جا کیونکہ وہ قصہ آپ کو یاد آگیا۔اس طرح پر دوست دشمن میں پوری تمیز کر لینی چاہیے اور پھر اُن سے علیٰ قدرِ مراتب نیکی کرنی چاہیے۔کمزور بھائیوں کا بار اٹھائو اصل بات یہ ہے کہ اندرونی طور پر ساری جماعت ایک درجہ پر نہیں ہوتی۔کیا ساری گندم تخم ریزی سے ایک ہی طرح نکل آتی ہے۔بہت سے دانے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ضائع ہو جاتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو چڑیاں کھا جاتی ہیں۔بعض کسی اور طرح قابلِ ثمر نہیں رہتے۔غرض اُن میں سے جو ہو نہار ہوتے ہیں اُن کو کوئی ضائع نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کے لیے جو جماعت تیار ہوتی ہے وہ بھی كَزَرْعٍ ہوتی ہے۔اسی لیے اس اصول پر اس کی ترقی ضروری ہے۔پس یہ دستور ہونا چاہیے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں۔ایک تیرنا جانتا ہے اور دوسرا نہیں۔تو کیا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے؟ اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لیے قرآن شریف میں آیا ہے تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى (المائدۃ :۳) کمزور بھائیوں کا بار اُٹھائو۔عملی، ایمانی اور مالی کمزوریوں