ملفوظات (جلد 3) — Page 139
خدا کے نزدیک قومیّت کا لحاظ نہیں اسی شخص نے کہا کہ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ سیّد ہو کر اُمتی کی بیعت کرتے ہو؟ فرمایا۔خدا تعالیٰ نہ محض جسم سے راضی ہوتا ہے نہ قوم سے۔اس کی نظر ہمیشہ تقویٰ پر ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ( الـحجرات : ۱۴) یعنی اﷲ کے نزدیک تم سے زیادہ بزرگی رکھنے والا وہی ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔یہ بالکل جھوٹی باتیں ہیں کہ میں سید ہوں یا مغل ہوں یا پٹھان اور شیخ ہوں۔اگر بڑی قومیت پر فخر کرتا ہے تو یہ فخر فضول ہے۔مَرنے کے بعد سب قومیں جاتی رہتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور قومیت پر کوئی نظر نہیں اور کوئی شخص محض اعلیٰ خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے نجات نہیں پاسکتا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو کہا ہے کہ اے فاطمہ! تُو اس بات پر ناز نہ کر کہ تو پیغمبر زادی ہے۔خدا کے نزدیک قومیت کا لحاظ نہیں۔وہاں جو مدارج ملتے ہیں وہ تقویٰ کے لحاظ سے ملتے ہیں۔یہ قومیں اور قبائل دنیا کا عرف اور انتظام ہیں۔خدا تعالیٰ سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ ہی مدارجِ عالیہ کا باعث ہوتا ہے۔اگر کوئی سیّد ہو اور وہ عیسائی ہو کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بے حرمتی کرے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کو آلِ رسول ہونے کی وجہ سے نجات دے گا اور وہ بہشت میں داخل ہو جاوے گا اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ ( اٰلِ عـمران : ۲۰) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے اسلام ہے۔اگر کوئی عیسائی ہو جاوے یا یہودی ہو یا آریہ ہو وہ خدا کے نزدیک عزّت پانے کے لائق نہیں۔خدا تعالیٰ نے ذاتوں اور قوموں کو اڑادیا ہے۔یہ دنیا کے انتظام اور عُرف کے لئے قبائل ہیں۔مگر ہم نے خوب غور کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور جو مدارج ملتے ہیں ان کا اصل باعث تقویٰ ہی ہے جو متقی ہے وہ جنّت میں جاوے گا۔خدا تعالیٰ اس کے لیے فیصلہ کر چکا ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک معزّز متقی ہی ہے۔پھر یہ جو فرمایا ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ( المائدۃ : ۲۸) کہ اعمال اور دعائیں متقیوں کی قبول ہوتی ہیں۔یہ نہیں کہا کہ مِنَ