ملفوظات (جلد 3) — Page 138
سے پوچھ لیں۔اب دور بیٹھے ہیں، نہ کتاب ہے، نہ غور ہے، نہ فکر ہے۔سِفلہ لوگوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بد تر کام کرتے ہیں۔یہ طریق تو تقویٰ کے خلاف ہے۔اگر کوئی انسان ایسا ہو جو اُن پر رُعب داب رکھتا ہو وہ انہیں جا کر سمجھائے۔دنیا دار لوگ اگر اُن کو کہیں تو اُن سے ڈرتے ہیں۔خدا کرے کہ کوئی ایسا دنیا دار ہو جس کو اس طرف توجہ ہو اور ان کو سمجھائے اور یہی خیال کرے کہ اسلام میں پھوٹ پڑ رہی ہے اس کو ہی دور کیا جاوے۔غرض ہم تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ راہ پر آویں اور ہماری مخالفت کر کے تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ خود اپنی تائید کر رہا ہے۔پَرنالہ کا پانی تو ایک اینٹ سے بند کر سکتے ہیں مگر آسمان کا کون بند کر سکتا ہے۔یہ خدا کے کام ہیں۔چراغ کو تو پھونک مار کر بجھادیتے ہیں مگر چاند سورج کو تو کوئی پھونک مار کر بجھاوے۔خدا کے کام اونچے ہیں۔انسان کی وہاں پیش رفت نہیں جاتی۔وہاں نہ غبارہ جاوے اور نہ ریل۔یہ بھی عظمتِ الٰہی ہے۔تعالیٰ شانُہٗ کامصداق ہے۔آسمانی امور اونچے ہیں۔وہ تو آگے ہی آگے جاتے ہیں۔عذاب سے متعلق خدا تعالیٰ کی سنّت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میرے گائوں سے آٹھ آدمیوں نے خط بھیجا ہے کہ اگر سچے ہو تو ہم پرعذاب نازل ہو جاوے۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کے کام میں جلدی نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے دکھ دئیے گئے اور بعض ایسے بیباک اور شریر تھے جو کہتے تھے کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر پتھر برسیں مگر اسی وقت تو اُن پر پتھر نہ برسے۔خدا تعالیٰ کی سنّت یہ نہیں کہ اسی وقت عذاب نازل کرے۔اگر کوئی خدا تعالیٰ کو گالیاں دے توکیا اسی وقت اس پر عذاب آجاوے گا۔عذاب اپنے وقت پر آتا ہے جبکہ جرم ثابت ہو جاتا ہے۔لیکھرام ایک آریہ تھا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت گالیاں دیا کرتا تھا۔آخر خدا تعالیٰ نے اس کی شرارتوں اور شوخیوں کے بدلے اس کو سزادی اور وہی زبان چُھری ہو کر اس کی ہلاکت کا باعث ہوئی جس سے وہ ٹکڑے کیا گیا۔پس خدا تعالیٰ کی یہ سنّت نہیں ہے کہ وہ اُسی وقت عذاب دے یہ لوگ کیسے بیوقوف اور بدقسمت ہوتے ہیں۔عذاب مانگتے ہیں۔ہدایت نہیں مانگتے۔