ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 137

۱۹؍اگست ۱۹۰۲ء (بوقتِ شام) دلائل صداقت متقی کامنہ تو ایسے بند ہوتا ہے جیسے منہ میں روڑے ڈالے ہوئے ہوں۔متقی کبھی کفر کا دائرہ وسیع کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ ایمان کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔ان مخالف مولویوں کی نسبت میرا یہ عقیدہ تھا کہ ان میں صفائی نہیں ہے اور ملونی سے ضرور بھرے ہوئے ہیں۔مگر یہ میرے وہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ان سے یہ کمینہ پن ظاہر ہوگا جو انہوں نے اب میری مخالفت میں ظاہر کیا ہے۔چونکہ عمر گذرتی جاتی ہے جیسے برف ڈھلتی ہے اس لیے ہر روز یہ خیال آتا ہے کہ کوئی آدمی ایسا ہو جو اُن کے پاس جاوے اور اُن کو فیصلہ کی راہ پر لاوے اور بتائے کہ ایک وہ وقت تھا کہ اﷲ تعالیٰ میری دعا کی نقل فرماتا ہے۔رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا (الانبیآء : ۹۰) اور رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى (البقرۃ : ۲۶۱)۔وہ زمانہ کہاں کہ دو آدمی ثابت کرنے مشکل ہیں۔اور یا اب یہ زمانہ ہے کہ فوجیں کی فوجیں آرہی ہیں۔قبل ازوقت کہ جیسا کہا تھا وہ کر دیا اور کر رہا ہے اور لوگوں کی نظروں میں عجیب۔اگر کوئی سمجھنے والا ہو تو اُسے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا نے اپنی سنّتِ قدیمہ کے موافق کیا اور جس طرح رُسُل آتے ہیں وہ اسی طرح پہچانے جاتے ہیں۔مجھے انہیں آثار اور نشانات کے ساتھ شناخت کرو جو خدا کی طرف سے آتے ہیں۔وہ خدا کی محکم ہدایات کے خلاف نہیں کرتے۔ایسا نہیں کہ حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دیں۔دوسرے وہ ایسے وقت میں آتے ہیں کہ وہ ضرورت کا وقت ہوتا ہے۔تیسرے یہ کہ تائیدِ الٰہی کے بدوں نہیں ہوتے۔صریح نظر آتا ہے کہ خدا تائید کرتا ہے۔سچائی معلوم کرنے کی تین راہیں جہاں تک میں خیال کرتا ہوں سچائی کے تین ہی راہ ہیں اوّل نصوصِ قرآنیہ و حدیثیہ، دوسرے عقل، تیسرے خدا تعالیٰ کے تائیدات۔ان تینوں ذریعوں سے جو چاہے ہم سے ثبوت لے مگر انسان بن کر نہ سِفلہ پن کی طرح۔ہم سب کو دعوت دیتے ہیں خواہ سو روپیہ روز خرچ ہو جاوے۔آکر آدمیت