ملفوظات (جلد 2) — Page 512
جہاد کے خیال سے یہ ایک بیہودہ بات ہے اور ان مفسدوںکو غازی کہناسراسرنادانی اور جہالت ہے۔اگر کوئی جاہل مسلمان اُن کے ساتھ ذرا بھی ہمدردی رکھتاہے اس خیال سے کہ وہ جہاد کرتے ہیں میںسچ کہتا ہوں کہ وہ اسلام کا دشمن ہے جو مفسد کانام غازی رکھتا ہے اوراسلام کے بدنام کرنے والوں کی تعریف کرتاہے۔یہودیوںکے لیے خدا نے جومسیح پیدا کیا تھا اُس کی غرض بھی یہی تھی کہ یہودیوں کی اس آلائش کو دھو ڈالے جو جبر کے ساتھ اشاعت ِمذہب کی اُن سے منسوب کی گئی تھی۔اسی طرح پر چودھویںصدی میں جو مسیح موعود خدا نے اسلام کو دیا ہے اس کی غرض اور مقصود بھی یہی ہے کہ اسلام کو اس اعتراض سے صاف کرے کہ اسلام جبر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے اس لیے اس کا پہلا کام یہی ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا۔انگلستان اور فرانس اور دیگر ممالک یورپ میں یہ الزام بڑی سختی سے اسلام پر لگایا جاتاہے کہ وہ جبر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ وہ نہیںدیکھتے کہ اسلام لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ(البقرۃ:۲۵۷) کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ کیا وہ مذہب جو فتح پاکر بھی گرجے نہ گرانے کاحکم دیتا ہے کیا وہ جبر کر سکتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ ان ملّانوںنے جواسلام کے نادان دوست ہیں یہ فساد ڈالا ہے۔اُنہوںنے خود اسلام کی حقیقت کو سمجھانہیں اور اپنے خیالی عقائد کی بناپر دوسروںکو اعتراض کاموقع دیا۔جو کچھ عقائد ان احمقوںنے بنارکھے ہیں اُن سے نصاریٰ کو خوب مدد پہنچی ہے۔اگر یہ لوگ جہاد کی صورت میںدھوکا نہ دیتے یا نہ کھاتے تو کسی کو اعتراض کا موقع ہی نہیں مل سکتا تھا مگر اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے پاک اور درخشاں چہرہ سے یہ سب گردو غبار دور کرے اور اس کی خوبیوںاور حسن و جمال سے دنیاکو اطلاع بخشے۔چنانچہ اسی غرض اور مقصد کے لیے اس وقت جب کہ اسلام دشمنوں کے نرغہ میں پھنساہوا بے کس اوریتیم بچہ کی طرح ہورہاتھا اُس نے اپنا یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مجھے بھیجاہے تامیں عملی سچائیوں اور خدا کے نشانات کے ساتھ اسلام کو غالب کروں۔۱