ملفوظات (جلد 2) — Page 511
کہ اب خدا کا وقت آگیا ہے۔جو کچھ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا تھا۔اُس کے پورا ہونے کا وقت آپہنچا کہ مسیح موعود صلیب کو توڑے گا۔اس سے یہ مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ تھی کہ وہ صلیبیں توڑتا پھرے گا۔کیونکہ اگر صلیب توڑنے ہی سے کوئی مسیح موعود ہو سکتا ہے تو پھر صلاح الدین اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں بہت سی صلیبیں توڑی گئی تھیں۔علاوہ بریں صلیب کے اس طرح پر توڑنے سے کچھ فائدہ نہیں۔اگر ایک لکڑی کی صلیب توڑی جاوے تو دس اور بن سکتی ہیں۔چاندی سونے کی بن جاتی ہیں۔مگر نہیں خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کے لیے جو کسر صلیب مقرر کیا تو اس سے یہ ہرگز مراد نہیں تھی کہ ان صلیبوں کو توڑتا پھرے گا کیونکہ اس سے ظالم ٹھہرایا جاسکتا ہے۔پس جو لوگ یہ اعتقاد کرتے ہیں وہ دین کو بدنام کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو اس جسمانی جنگ سے بَری رکھا ہے اور اس کے لیے یہ مقرر کیا کہ یَضَعُ الْـحَرْب تاکہ اس دودھ میں مکھی نہ پڑ جاوے۔مسیح موعود دنیا میں آیا ہے تاکہ دین کے نام سے تلوار اُٹھانے کے خیال کو دور کرے اور اپنی حجج اور براہین سے ثابت کر دکھائے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشاعت میں تلوار کی مدد کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اُس کے حقائق و معارف و حجج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوئی ہیں اس لیے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزورِ شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لیے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں۔اگر کسی کوشک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔اب خدا تعالیٰ چاہتاہے اور اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ ان تمام اعتراضوں کو اسلام کے پاک وجود سے دور کردے جو خبیث آدمیوں نے اس پر کئے ہیں۔تلوار کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے اب سخت شرمندہ ہوںگے۔یہ کہنا کہ سرحدی غازی آئے دن فساد کرتے ہیں۔