ملفوظات (جلد 2) — Page 510
کو پیش کیا جاوے۔ایک صلیب ہی ایسی چیز ہے جو ساری خدائی اور نبوت پر پانی پھیر دیتی ہے کہ جب مصلوب ہو کر ملعون ہو گیا تو کاذب ہونے میں کیا باقی رہا۔یہودی مجبور تھے۔ان کی کتابوں میں کاذب کا یہ نشان تھا۔اب وہ صادق کیوں کر تسلیم کرتے؟ جو خود خدا سے دور ہو گیا وہ اَوروں کے گناہ کیا اٹھائے گا۔عیسائیوں کی اس خوش اعتقادی پر سخت افسوس آتا ہے کہ جب دل ہی ناپاک ہو گیا تو اَور کیا باقی رہا۔وہ دوسروں کو کیا بچائے گا۔اگر کچھ بھی شرم ہوتی اور عقل و فکر سے کام لیتے تو مصلوب اور ملعون کے عقیدے کو پیش کرتے ہوئے یسوع کی خدائی کا اقرار کرنے سے اُن کو موت آجاتی۔اب کسرِصلیب کے سامان کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اور عیسائی مذہب کا باطل ہونا ایک بدیہی مسئلہ ہوگیا ہے۔جس طرح پر چور پکڑا جاتا ہے تو اوّل اوّل وہ کوئی اقرار نہیں کرتا اور پتہ نہیں دیتا مگر جب پولیس کی تفتیش کامل ہو جاتی ہے تو پھر ساتھی بھی نکل آتے ہیں اور عورتوں بچوں کی شہادت بھی کافی ہوجاتی ہے۔کچھ کچھ مال بھی بر آمد ہو جاتا ہے۔تو پھر اس کو بےحیائی سے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہاں میں نے چوری کی ہے۔اسی طرح پر عیسائی مذہب کا حال ہوا ہے۔صلیب پر مَرنا یسوع کو کاذب ٹھہراتا ہے۔لعنت دل کو گندہ کرتی اور خدا سے قطع تعلق کرتی ہے۔اور اپنا قول کہ یونسؑ کے معجزہ کے سوا اور کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا باقی معجزات کو ردّ کرتا اور صلیب پر مَرنے سے بچنے کو معجزہ ٹھہراتا ہے۔عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ انجیل میں کچھ حصہ الحاقی بھی ہے۔یہ ساری باتیں مل ملا کر اس بات کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہیں جو یسوع کی خدائی کی دیوار کو جو ریت پر بنائی گئی تھی بالکل خاک سے ملاویں اور سرینگر میں اس کی قبر نے صلیب کو بالکل توڑ ڈالا۔مرہم عیسیٰ اس کے لیے بطور شاہد ہو گئی۔غرض یہ ساری باتیں جب ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ ایک دانش مند سلیم الفطرت انسان کے سامنے پیش کی جاویں تو اسے صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مسیحؑ صلیب پر نہیں مرا۔اس لئے کفارہ جو عیسائیت کا اصل الاصول ہے بالکل باطل ہے۔مسیح موعود کی بعثت کی غرض پس یاد رکھو کہ یہ وہ حقائق ہیں جو اس وقت خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مسیح موعود پر کھولے ہیں۔میں پکار کر کہتا ہوں