ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 414

سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح مو عو د وا قعی حَکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سا منے اپنے ہتھیار ڈال دو۔اور اس کے فیصلوں کو عز ت کی نگا ہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عز ت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہاد ت کافی ہے وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا وہ حَکَم عدل ہوگا اگر اس پر تسلی نہیں ہوتی توپھر کب ہو گی۔یہ طریق ہر گزاچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میںبد ظنّیاںبھی ہوں۔میںاگر صاد ق نہیں ہوںتوپھر جائو اور صادق تلا ش کر و اور یقیناً سمجھو کہ اس و قت اور صاد ق نہیںمل سکتا۔او ر پھر اگر دوسرا کوئی صاد ق نہ ملے اور نہیں ملے گا تو پھر میں اتنا حق مانگتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو دیاہے۔جن لوگوں نے میراانکار کیا ہے اور جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے مجھے شناخت نہیں کیا اور جس نے مجھے تسلیم کیا اور پھر اعتراض رکھتا ہے وہ اور بھی بد قسمت ہے کہ دیکھ کر اندھا ہوا۔اصل بات یہ ہے کہ معاصرت بھی رتبہ کو گھٹادیتی ہے اس لیے حضرت مسیحؑ کہتے ہیںکہ نبی بے عزّت نہیں ہوتا مگراپنے وطن میں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کو اہل وطن سے کیا کیاتکلیفیں اور صدمے اٹھانے پڑے تھے اور یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک سنّت چلی آتی ہے ہم اس سے الگ کیونکر ہوسکتے ہیں۔اس لیے ہم کو جو کچھ اپنے مخالفوں سے سننا پڑا۔یہ اسی سنّت کے موافق ہے مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠(الـحجر:۱۲) افسوس اگر یہ لوگ صاف نیت سے میرے پاس آتے تو میں ان کو وہ دکھاتا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور وہ خدا خود ان پر اپنا فضل کرتا اور انہیںسمجھا دیتا مگر انہوں نے بخل اور حسد سے کام لیا۔اب میں ان کو کس طرح سمجھائوں؟ جب انسان سچّے دل سے حق طلبی کے لیے آتا ہے تو سب سے فیصلہ ہو جاتے ہیں لیکن جب بدگوئی اور شرارت مقصود ہو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔میں کب تک ان کے فیصلے کرتا رہوں گا۔حجج الکرامہ میں ابن عربی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسیح موعودؑ جب آئے گا تو اسے مفتری اور جاہل ٹھہرایا جائے گا اور یہاںتک بھی کہا جاوے گا کہ وہ دین کو تغیر کرتا ہے۔اس وقت ایسا ہی ہو رہا