ملفوظات (جلد 2) — Page 413
کے موافق ایک تغیر بھی اس کے ساتھ ضروری ہے کیونکہ وہ بحیثیت حَکم ہونے کے تمام بدعات اور خرابیوں کو جو فیج اعوج کے زمانہ میں پیدا ہونی ہیں دور کرے گااور لوگ ان کو تغیر دین کے نام سے یاد کریں گے۔میں پوچھتا ہوںکہ اگر تم مخالفوں سے ڈرتے ہو تو پھر مجھے قبول کرنے کا کیا فائدہ ہوا میری مخالفت میں کافر اور دجال ٹھہرائے گئے اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا؟ اور پھر اگر یہی بات ہے کہ اس کو تغیر دین کہتے ہیں تو بتائو کہ میں نے جہاد کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے اور شائع کر دیا ہے کہ دین کے لئے تلوار اٹھانا حرام ہے پھر اس کی پروا کیوں کرتے ہو؟ ہمارے مخالف تو یَضَعُ الْـجِزْیَۃَ کہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ یَضَعُ الْـحَرْبَ درست ہے۔غرض اگر آپ یہ چاہیں کہ ان لوگوں کے پنجوں سے بچ جائیں، یہ مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے جب تک پورے برگشتہ نہ ہو جائیں پس اب’’ یک در گیر محکم گیر‘‘ پر عمل کرو۔۱ حَکم و عدل کے فیصلوں کو عزّت کی نگاہ سے دیکھو جو شخص ایمان لاتا ہے اسے اپنے ایمان سے یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہیے نہ یہ کہ وہ پھر ظن میں گرفتار ہو۔یاد رکھو ظن مفیدنہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا (یونس:۳۷) یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بامراد کر سکتی ہے۔یقین کے بغیرکچھ نہیںہو تا۔ا گر انسان ہر بات پر بدظنی کر نے لگے تو شائد ایک دم بھی دنیا میں نہ گزار سکے۔وہ پانی نہ پی سکے کہ شائد ا س میں زہر ملا دیا ہو۔بازار کی چیزیںنہ کھا سکے کہ ان میںہلا ک کر نے والی کوئی شے نہ ہو۔پھر کس طرح وہ رہ سکتا ہے یہ ایک موٹی مثا ل ہے اسی طرح پر انسا ن رو حا نی امور میں ا س سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اب تم خود یہ سو چ لو او ر اپنے دلو ں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جوبیعت کی ہے او ر مجھے مسیح موعود، حَکَم،عدل ماناہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یافعل پر اگر دل میںکوئی کد ور ت یا رنج آتا ہے تواپنے ایمان کی فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور تو ہمات سے بھر ا ہو ا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا لیکن اگر تم نے سچے دل