ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 415

ہے۔اس قسم کے الزام مجھے دئیے جاتے ہیں۔ان شبہات سے انسان تب نجات پا سکتا ہے جب وہ اپنے اجتہاد کی کتاب ڈھانپ لے اور اس کی بجائے وہ یہ فکر کرے کہ کیا یہ سچا ہے یا نہیں۔بعض امور بےشک سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں لیکن جو لوگ پیغمبر وں پر ایمان لاتے ہیں۔وہ حسنِ ظن اور صبراور استقلال سے ایک وقت کا انتظار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر اصل حقیقت کو کھول دیتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت صحابہؓ سوال نہ کرتے تھے بلکہ منتظر رہتے تھے کہ کوئی آکر سوال کرے تو فائدہ اٹھا تے تھے ورنہ خود خاموش سرتسلیم خم کئے ہوئے بیٹھے رہتے تھے اور جرأت سوا ل کرنے کی نہ کرتے تھے۔میرے نزدیک اصل اور اسلم طریق یہی ہے کہ ادب کرے۔جوشخص آداب النبی کو نہیں سمجھتا اوراس کو اختیار نہیں کرتا اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہلاک نہ کیا جائے۔یقین کے مدارج وہ لوگ بڑی غلطی پر ہیں جو ایک ہی دن میں حق الیقین کے درجے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔یاد رکھوکہ ایک ظن ہوتا ہے اور ایک یقین۔ظن صرف خیالی بات ہوتی ہے اس کی صحت اور سچائی پر کوئی حکم نہیں ہوتا بلکہ اس میں احتمال کذب کا ہوتا ہے لیکن یقین میں ایک سچائی کی روشنی ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ یقین کے بھی مدارج ہیں۔ایک علم الیقین ہوتا ہے پھر عین الیقین اور تیسرا حق الیقین جیسے دور سے کوئی آدمی دھواں دیکھتا ہے تو وہ آگ کا یقین کرتا ہے اور یہ علم الیقین ہے اور جب جا کر دیکھتا ہے تو وہ عین الیقین ہے اور جب ہاتھ ڈال کر دیکھتا ہے کہ وہ جلاتی ہے تو وہ حق الیقین ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی ابھی ظن سے مخلصی نہیں ہوئی جبکہ سنّت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جو مامور خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کے ساتھ ابتلا ضرور ہوتے ہیں پھر میں کیوں کر ابتلا کے بغیر آسکتا تھا۔اگرا بتلا نہ ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں سے آ جاتے تاکہ ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتاکہ آنے والے کے لئے لکھا ہے کہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہو گا اوراسی طرح حضرت مسیحؑ کے وقت ایلیا ہی آجاتا تاکہ ان کو ٹھوکر نہ لگتی۔ایک یہودی فاضل نے اس پر بڑی کتاب لکھی ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ ایلیا نہیں آیا۔اور اگر خدا بھی ہم سے پوچھے گا تو ہم